تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 17
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ 14 ہماری مخالفت کی اور مقابلے پر آمادہ ہو گئے مگر ہندوؤں نے جس محبت اور شرافت سے باتیں سنیں اور جس روح کا اظہار کیا اس کا دسواں حصہ بھی مسلمانوں نے اس موقعہ پر نیز پچھلے یوم تبلیغ کے موقع پر نہیں کیا تھا سوائے شاذ کے ہر جگہ ہندوؤں نے احمدیوں کا تپاک کے ساتھ استقبال کیا خوشی کے ساتھ بٹھایا اور محبت کے ساتھ باتیں سنیں۔قادیان کے ایک دوست جو تبلیغ کے لئے باہر گئے ہوئے تھے۔انہوں نے سنایا کہ انہیں ایک ہندو نے جو موٹر میں بیٹھے تھے اپنے ساتھ بٹھا لیا کہ اپنی باتیں سناؤ اور ساتھ لے جاکر ان کی باتیں سنتے رہے۔پھر قادیان کے قریب آکر انہیں اتار دیا۔امرتسر میں ہمارے دوست ایک سکھ عالم کے پاس گئے تو انہوں نے نہایت تکریم کے ساتھ بٹھایا اور اس امر پر افسوس کیا کہ آپ تبلیغ تو ہم لوگوں کو کرتے ہیں۔اور ان مولویوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ آپ کی خواہ مخواہ مخالفت کر رہے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں اسلام کا سخت مخالف تھا اور رسول کریم ( ) کو ڈا کو سمجھتا تھا مگر مرزا صاحب کی کتب کے مطالعہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میں سخت غلطی پر تھا اور اس دن سے میں آپ کی بہت عزت کرتا ہوں خدا جانے ان مولویوں کو کیا ہو گیا اور یہ آپ لوگوں کی مخالفت کیوں کرتے ہیں۔میرے دل میں اگر اسلام کی عزت ہے تو محض مرزا صاحب کے طفیل ہے اس میں شبہ نہیں کہ غیر احمدیوں میں بھی مخالفت کرنے والے بہت محدود ہیں اور عام تعلیم یافتہ طبقہ جیسا کہ اخبارات وغیرہ سے پتہ لگتا ہے ان کی اس حرکت کو برا سمجھتا ہے اور یہ خوشکن تبدیلی ہے مگر ہندوؤں کی بیداری مسلمانوں سے بہت زیادہ بڑھی ہوئی ہے۔بعض جگہ مسلمانوں نے ہمارے دوستوں کو گالیاں دیں اور کہا کہ یہاں سے نکل جاؤ۔لیکن ہندوؤں نے ان کو بد زبانی سے روکا اور کہا یہ تو ہمیں تبلیغ کرتے ہیں تم کیوں منع کرتے ہو۔پھر ان کو بٹھایا اور ان کی باتیں سنیں لیکن غیر احمدیوں نے بعض جگہ احمدیوں کے مکانوں اور دکانوں پر جاکر سیاپے گئے۔گالیاں دیں اور یہ نہ سوچا کہ ان باتوں سے بھلا کیا بنتا ہے یہ تو جھوٹے اور شکست خوردہ ہونے کی علامات ہیں جب کوئی شکست کھاتا ہے تو گالیوں پر اتر آتا ہے لیکن جو غالب ہوتا ہے وہ گالی نہیں دیتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک تھپڑ مار کے مخالف کے دانت باہر نکال دوں گا۔۔۔۔بهر حال ان دونوں ایام التبلیغ سے ہمیں علم ہو گیا ہے کہ دنیا میں شریف انسانوں کی کمی نہیں پہلے یوم التبلیغ پر یہ معلوم ہوا تھا کہ مسلمانوں میں شرفاء کی کمی نہیں اور دوسرے سے یہ ظاہر ہو گیا کہ ہندوؤں میں ذاتی شرافت رکھنے والے لوگ مسلمانوں سے بھی زیادہ ہیں۔ہمیں یقین ہو گیا ہے کہ اگر ہماری تبلیغی مساعی جاری رہیں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا الہام جری اللہ فی حلل الانبیاء اپنے مادی رنگ میں بھی بہت جلد پورا ہو جائے گا یعنی ہر مذہب کے لوگ سلسلہ میں داخل ہو جائیں گے۔