تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 322 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 322

تاریخ احمدیت - جلد ۷ ۳۰۸ ۴۸۹۔ٹانگانیکا اور زنجبار کو آزادی کے بعد تنزانیہ کہا جاتا ہے۔۲۹۰ ملحها از مضمون مولانا شیخ مبارک احمد صاحب سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ (ریویو آف ریلیجز اردو فروری ۱۹۳۹ء) ۴۹۱ یہ وہی بزرگ ہیں جنہوں نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اپنے کاروبار میں نقصان کے سبب دعا کی درخواست کی۔جس پر حضور علیہ السلام نے اک نہ اک دن پیش ہو گا تو فنا کے سامنے والی نظم لکھ کر ارسال فرمائی۔خدا تعالٰی نے فضل فرمایا اور حضور کی دعا کی برکت سے مالی مشکلات دور ہو گئیں۔آپ کے سب لڑکے دینداری کا جذبہ رکھتے ہیں اور آج کل مشرقی افریقہ میں ہی رہتے ہیں۔۴۹۲۔الحکم ۱۰ / اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۵-۱۲- ۴۹۳- نام "INDIAN CONTINGENR" ۴۹۴ حیات احمد جلد پنجم صفحه ۱۳۱ از حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) ۴۹۵- یادر ہے یہ تینوں بزرگ ۳۱۳ صحابہ کبار میں سے تھے جن کا نام حضرت مسیح موعود نے ضمیمہ انجام آتھم کی فہرست میں بالترتیب نمبر ۶۷-۶۸ اور ۲۴۲ پر درج فرمایا ہے۔۴۹۶- الحکم ۲۴ / مارچ ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۵ کالم ۳ ۴۹۷- یہ حضرت مسیح موعود کے صحابی تھے اور احمدی کے نام سے یاد کئے جاتے تھے مشرقی افریقہ میں ایک اور احمدی ڈاکٹر بھی رہا کرتے تھے جو آپ کے ہم نام تھے۔٢٩٨۔الفضل ۱۰/ جنوری ۱۹۴۰ء صفحه ۴ ۴۹۹ الحکم ۱۰/ اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۳ کالم - ۵۰۰- حیات احمد جلد پنجم صفحه ۱۳۱ از مورخ احمدیت حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الفضل ۱۰/ جنوری ۱۹۴۰ء صفحه ۴ کالم ۲ الفرقان حضرت حافظ روشن علی نمبر صفحہ ۵۷- آپ کی یاد گار ایک لڑکی امتہ اللہ بیگم صاحبہ المیہ کیپٹن محمد اسلم صاحب ہیں۔۵۰۱- البد/ ۱۶ / فروری ۱۹۰۴ء صفحه ۷۔۵۰۲ - الحکم ۱۰/ اپریل ۱۹۰۱ء صفحه ۱۴ ۵۰۳- برادر حضرت قاضی سید امیر حسین صاحب ۵۰۴- آپ بڑے اعلیٰ پایہ کے مناظر اور مقرر بھی تھے۔۵۰۵- مولوی فخر الدین صاحب مرحوم کی نسبت ان کے پوتے محمد داؤد صاحب طاہر ( ابن مولانا محمد یعقوب صاحب ظاہر بذریعہ خط مطلع کرتے ہیں کہ دادا جان کے حالات دیکھے تو معلوم ہوا کہ آپ ۱۸۹۹ء کے اواخر میں حضرت خلیفہ اول ان کے ارشاد پر ممباسہ تشریف لے گئے تھے۔(محرره ۲/ دسمبر ۱۹۲۶ء) اگر یہ صحیح ہے تو معلوم نہیں ۱۹۰۱ء کی مندرجہ بالا فہرست سے ان کا نام کیسے رہ گیا ؟ ۵۰۶ - الحکم ۱۰ / اپریل ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۳ کالم ۱-۲-۱ ۵۰۷- آپ مارچ ۱۹۲۷ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی اجازت سے یہ سلسلہ ملازمت مشرقی افریقہ تشریف لے گئے تھے۔۵۰۸- آپ ۱۹۲۹ء کے آخر میں انڈین ہائی سکول میں مدرس کے طور پر وہاں گئے تھے۔آپ کی ملازمت کا انتظام ملک احمد حسین صاحب ممبر کیفیا لیجسلیٹو کونسل کے توسط سے ہوا آپ کے نیک نمونہ اخلاق اور مقناطیسی شخصیت نے نیروبی کے اپنوں اور بیگانوں پر نهایت گہرے نقوش چھوڑے ہیں سید عبد الرزاق شاہ صاحب چند سال بعد تشریف لے گئے اور اسی سکول میں ہی ملازم ہوئے۔-۵۰۰ تینوں بزرگ مسیح محمدی علیہ السلام کے صحابہ میں سے ہیں۔۵۱۰- الفضل ۱۰/جنوری ۱۹۴۰ء صفحه ۵- ۵۱۱- یہ پریس جماعت نے اپنے ایک گزشتہ تبلیغی دور میں اخبار البلاغ چھاپنے کے لئے لیا ہوا تھا۔۵۱۲- احمد یہ مسجد نیروبی کی بنیاد ۱۹۲۹ء میں رکھی گئی اور ۱۹۳۱ء میں تحمیل کو پہنچی۔محمد حسین صاحب بٹ کے سپر داس کی تعمیر کا کام تھا۔ہٹ صاحب جلد ہی فوت ہو گئے تھے اس کے بعد ملک احمد حسین صاحب نے مسجد کی تکمیل کرائی۔ملک صاحب موصوف میونسپل کو نسل کے ممبر تھے۔جب شہر کی دوسری جماعتوں کو قطعات اپنی مذہبی ضروریات کے لئے الاٹ ہوئے تو ملک صاحب نے بھی