تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 285
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ جماعت کے افراد تعداد کے لحاظ سے ابھی تھوڑے ہیں لیکن ان میں مالدار اور با اثر لوگوں کی کمی نہیں ہے۔اس لئے یہ جماعت اپنی تعداد سے کہیں بڑھ کر اثر ڈالنے اور نفوذ حاصل کرنے کی اہمیت سے بہرہ ور ہے " - 1 - "ممباسہ ٹائمز " (مورخہ ۲۱ جون ۱۹۶۲ء) لکھتا ہے۔سلام ر افریقہ میں مسلمان مبلغین ہمارے عیسائی مشنریز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ تیز رفتاری سے لوگوں کو اسلام کا حلقہ بگوش بنا رہے ہیں۔گر اہمز ٹاؤن کے ایک استاداے۔کے گراہم کے بیان کے بموجب توقع یہ ہے کہ عنقریب اشاعت اسلام کی یہ رفتار اور بھی زیادہ تیز ہو جائے گی۔مسٹر گراہم نے جو اسلام کا خاص طور پر مطالعہ کر چکے ہیں۔خبردار کیا ہے کہ بہت سے مبصرین یہ رائے رکھتے ہیں کہ اگر عیسائیت نے خطرہ کا پورے طور پر احساس نہ کیا تو اسلام بآسانی سارے افریقہ کامذہب بن جائے گا۔انہوں نے کہا کہ بیسویں صدی کا سب سے اہم اور تعجب خیز امروہ مخصوص اسلام ہے جو حیات نو سے ہمکنار ہونے کے علاوہ اپنی ذات میں جارحانہ نوعیت کا حامل ہے اور یہی وہ اسلام ہے جو بیداری سے ہمکنار ہونے والے افریقہ میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا اس وقت تین بڑی طاقتیں اپنی اپنی جگہ افریقہ پر غالب آنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ان میں سے ایک اشتراکیت ہے جو بیک وقت دوسری دو طاقتوں یعنی اسلام اور عیسائیت کی مخالفت پر کمر بستہ ہے۔اس جدوجہد میں اسلام بہر طور کامیاب ثابت ہو رہا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اسلام ، نسل، قومیت، سیاسی علائق اور تعلیم وغیرہ کے امتیازات سے یکسر بالا تر رہتے ہوئے ہر انسان کے عزور قار کا احترام کرتا ہے اور اسے ضروری قرار دیتا ہے"۔نیروبی کے مشہور اخبار ایسٹ افریقن سٹینڈرڈ " نے لکھا۔پہلے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ افریقہ کے دروازے عیسائیت کے لئے ہمیشہ ہی کھلے ہیں۔لیکن اب یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بند ہوتے جارہے ہیں۔بعض لوگوں کا تو یہ دعوئی ہے کہ اسلام عیسائیت کے مقابلے میں دس گناہ زیادہ رفتار کے ساتھ پھیل رہا ہے۔براعظم افریقہ کے ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک عیسائی مشن قائم کر کے اسلام کی اس وسعت پذیر ترقی کو روکنے کے لئے جو حکمت عملی بنائی گئی تھی وہ بظا ہر کتنی اچھی کیوں نہ ہو کامیاب ثابت نہیں ہوئی"۔اخبار یوگنڈا آرگس (۱۶/ اپریل ۱۹۶۳ء) نے آرچ بشپ آف کنٹر بری ڈاکٹر را مزے کے