تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 11
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ 1 بنائے کہ ہر احمدی اس دن تبلیغ میں مشغول ہو سکے اور اس غرض کے لئے باقاعدہ ایک سکیم بنائی جائے۔فہرستیں تیار کی جائیں اور اس کے ماتحت احمدی مردوں اور احمدی خواتین غرض کہ تمام افراد جماعت کی نگرانی کی جائے کہ اس میں کہاں تک حصہ لیا گیا ہے۔پہلا یوم التبليغ چنانچہ اس فیصلہ کے مطابق جماعت احمدیہ نے ملک بھر میں سب سے پہلا یوم ++ التبلیغ ۱۸ اکتوبر ۱۹۳۲ء کو پورے جوش و خروش اور والہانہ اور فدائیانہ ذوق و شوق سے منایا۔اور مخالفین احمدیت کی شرانگیزیوں کے باوجود اس کے نہایت شاندار نتائج بر آمد ہوئے جن کی تفصیل سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ان کے مبارک الفاظ میں درج ذیل کی جاتی ہے۔حضور نے فرمایا۔و جس غرض کو پورا کرنے کے لئے یہ دن مقرر کیا گیا تھا اس وقت تک جس حد تک نتائج میرے سامنے آئے ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بہت حد تک پوری ہو چکی ہے اور مخالفوں کی مخالفت ہمارے رستہ میں روک بننے کی بجائے کھاد کا موجب ہوئی ہے۔بعض دوستوں نے لکھا اور بعض نے بیان کیا ہے کہ جن لوگوں کے پاس جا کر ہم نے دس پندرہ منٹ صرف اپنی آمد کی غرض بتانے میں صرف کرنے تھے انہوں نے دیکھتے ہی کہہ دیا۔اچھا آپ آج ہمیں تبلیغ کرنے کے لئے آئے ہیں ہم تو پہلے ہی سمجھتے تھے کہ آپ نے ہمیں چھوڑنا نہیں۔اچھا آئیے سنائیے گویا اس مخالفت سے وہ ہزاروں لاکھوں آدمی جن تک ہماری آواز پہنچنا مشکل تھی یا جن کے گھروں پر جا کر دس پندرہ منٹ اپنی آمد کی غرض سمجھانے میں ہمیں صرف کرنے پڑتے انہیں مخالفوں کی آواز نے پہلے ہی تیار کر دیا۔"زمیندار"۔"حریت " اور مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ معاندین نے انہیں بتا دیا کہ فلاں تاریخ کو احمدی تمہارے پاس آئیں گے ان کے پاس وقت چونکہ تھوڑا ہے اس لئے اسے ضائع نہ کرنا ان کی آمد کی غرض ہم تمہیں بتائے دیتے ہیں اور اس طرح وہ ہزار ہا گھنٹے جو احمدیوں کے اپنے آنے کی تمہید میں ضائع ہونے تھے بچ گئے۔پھر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کیونکہ خدا تعالٰی نے مختلف طبائع پیدا کی ہیں کہ انہیں جس کام سے روکا جائے وہ کہتے ہیں اسے ضرور کریں گے اور مسلمانوں میں بھی ایسی طبائع کے لاکھوں آدمی ہوں گے۔اس لئے مخالفوں کی طرف سے بار بار یہ تاکید ہونے پر کہ احمدیوں کی بات نہ سننا انہوں نے فیصلہ کر لیا کہ ضرور سنیں گے۔پھر کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ مخالفت کا جتنا شور بلند ہو اتنی ہی زیادہ بیداری ان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ایسے لوگ اپنے علماء کی مخالفت تو نہیں کرتے۔مگر تماشہ دیکھنے کے شائق ضرور ہوتے ہیں وہ اسے ایک تماشہ سمجھتے ہیں اور گو قریب نہیں آتے مگر دور سے جھانکتے رہتے ہیں ایسے لوگ بھی بالآخر قابو آجایا کرتے ہیں کیونکہ اگر تماشہ دلچسپ ہو تو دور سے جھانکنے والے آہستہ آہستہ قریب