تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 10
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ سکیں گے۔بالعموم پہلی صدی ہی ایسی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالٰی کی قائم کردہ جماعت دنیا میں وسیع طور پر پھیل جاتی ہے اور ہم یہ ترقی حاصل نہیں کر سکتے جب تک لاکھوں آدمی ہر سال ہماری جماعت میں شامل نہ ہوں اور اگر ہم نے پہلی صدی میں ہی اپنی جماعت کو دنیا پر غالب نہ کیا تو پھر اور کونسا وقت ہو گا جب ہم تبلیغ کا کام کریں گے جبکہ پہلی صدی ہی اپنے ساتھ عظیم الشان برکات رکھتی ہے اور پہلی صدی میں ہی تعلیم اور تربیت کا بہترین سامان مہیا ہوتا ہے۔اگر ہم پہلی صدی میں تبلیغ کی طرف سے کو تاہی کریں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ایک طرف تو ہماری ترقی کو نا قابل تلافی صدمہ پہنچے گا اور دوسری طرف ہماری جماعت کی تربیت میں بھی نقص آجائے گا کیونکہ تبلیغی زمانہ میں اگر چہ جماعت خود تربیت کی طرف پوری طرح توجہ نہیں کر سکتی مگر دشمنوں کی طرف سے متواتر مظالم ہوتے ہیں اور وہ الہی سلسلہ میں داخل ہونے والوں کو مختلف قسم کی اذیتیں اور دکھ پہنچاتے ہیں اس لئے ان کے ظلم و ستم اور جبر و تشدد کی وجہ سے خود بخود لوگوں کی اخلاقی اور روحانی تربیت ہوتی چلی جاتی ہے۔پس الی سلسلہ کی پہلی صدی میں تبلیغ کا کام تو دوستوں کے سپرد ہوتا ہے اور تربیت کا کام دشمنوں کے سپرد مگر بعد کی صدیوں میں چونکہ دشمن کم ہو جاتے ہیں اور دشمنوں کے شدائد کی کمی کی وجہ سے تربیت میں نقص آجاتا ہے اس لئے اس وقت بہت سے جھگڑے پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں۔پس اگر ہم اس وقت تبلیغ میں ستی ظاہر کرتے ہیں تو یہ سستی تربیت پر بھی برا اثر ڈالتی ہے اور جماعت اگر تعداد کے لحاظ سے کم ہوتی ہے تو دوسری طرف اس کی تربیت میں بھی کمی آجاتی ہے کیونکہ جب تبلیغ سرد پڑ جائے گی اس وقت تربیت بھی سرد پڑ جائے گی یہی وجہ ہے کہ دشمنوں کے مظالم دکھ اور تکالیف مومنوں کو اللہ تعالی کی طرف متوجہ کرتی ہیں اور یہ تکالیف ہی ایسی چیز ہیں۔جو اللہ تعالٰی کی نصرت لا کر مومن کو اللہ تعالیٰ کا عینی مشاہدہ کرا دیتی ہیں۔تب وہ ایمان حاصل ہوتا ہے جو خطرے سے بچاتا اور تمام لغزشوں سے انسان کو محفوظ رکھتا ہے۔پس میں تبلیغ کے لئے اگر چہ پہلے بھی کئی بار ا حباب کو توجہ دلا چکا ہوں مگر اب پھر توجہ دلاتا ہوں اور دوستوں کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اپنی مستی کو دور کریں اور اس جوش سے تبلیغ کا کام کریں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال لاکھوں آدمی سلسلہ میں داخل ہونے شروع ہو جائیں"۔اس ولولہ انگیز خطبہ کے بعد حضور نے ملک میں تبلیغ احمدیت کا ایک عام رجحان اور حرکت پیدا کرنے کے لئے اس سال کی مجلس مشاورت ( منعقدہ مارچ ۱۹۳۲ء) میں یہ فیصلہ بھی فرمایا کہ جماعت سال میں دو دفعہ ” یوم التبلیغ " منائے۔ایک "یوم التبلیغ " غیر احمدی مسلمانوں کے لئے مخصوص ہو اور دوسرا غیر مسلموں خصوصا ہندو اصحاب کے لئے۔نیز یہ ہدایت فرمائی کہ نظارت دعوۃ و تبلیغ ایسے قواعد ŁA