تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 250 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 250

تاریخ احمدیت - جلد 4 ۲۳۶ شخص پر مصیبت یہ کہ عربوں نے غلاموں کی تجارت سے بہت برا اثر ڈالا۔کہتے ہیں کہ KING MUTESA I نے ایک بار عربوں اور عیسائی پادریوں کو اپنے دربار میں بلایا۔یہ لامذ ہب تھا لیکن اسلام کی طرف مائل تھا اس کے کسی سوال پر عربوں نے کہا کہ انسانوں کو پکڑنا اور فروخت کرنا جائز ہے مگر پادریوں نے اس سوال کا یہ جواب دیا کہ ہم تمام انسان خدا کے بیٹے ہیں اور وہ ہم سب کا باپ ہے یہ بات سن کر بادشاہ اپنے درباریوں سمیت اسلام سے بدظن ہو گیا اور اس کے وزیر عیسائی ہو گئے ازاں بعد ملک میں عیسائی حکومت قائم ہو گئی چنانچہ SIR DAUDICH WA جو ۱۹۳۸ء میں تخت حکومت پر متمکن تھا عیسائی تھا۔سب سے بڑی مشکل یہ پیش آئی کہ اس علاقہ میں جو تھوڑے بہت مسلمان رہ گئے وہ بھی یہ سمجھنے لگے کہ جب عربوں نے غلاموں کی تجارت کی تو اسلام اس کی اجازت دیتا ہو گا۔اس طرح اسلام اور غلامی مترادف الفاظ بن گئے۔جو آئندہ چل کر اشاعت اسلام کی کوشش میں بری طرح رخنہ انداز ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ٹانگائی کا ایک بہت بڑا علاقہ ہے جو پہلی جنگ عظیم کے بعد انگریزوں کے قبضہ میں آگیا اور پھر اس میں عیسائی مشنوں کا دباؤ یہاں تک بڑھ گیا کہ (۱۹۳۸ء تک) بائیس رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ مشن مختلف ممالک کی طرف سے قائم ہو چکے تھے جن کے ماتحت ۱۲۴۵ ہم مراکز تھے اور بارہ سو غیر ملکی مشنری کام کر رہے تھے ان مشنوں کے قریباً پانچ ہزار مختلف قسم کے سکول کھل چکے تھے۔ہسپتال اور ڈسپنسریاں مزید بر آں تھیں۔مسیحیت کے فروغ و اشاعت کے لئے کئی رسائل و اخبارات شائع ہوتے تھے اور ٹانگانیکا کی مختلف ۳۳ زبانوں میں عیسائیت کا لٹریچر شائع ہو چکا تھا۔اس تمام جد و جہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ ساڑھے تین لاکھ کے قریب افر- تقن عیسائیت میں داخل ہو گئے۔مشرقی افریقہ میں اشاعت احمدیت کی ابتدائی تاریخ شروع ۱۸۹۶ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة و السلام کے دو صحابی حضرت منشی محمد افضل صاحب اور حضرت میاں عبداللہ صاحب نو مسلم یوگنڈا ریلوے میں بھرتی ہو کر کینیا کالونی کی بندرگاہ ممباسہ میں پہنچے۔یہ سب سے پہلے احمدی تھے جنہوں نے مشرقی افریقہ کے ساحل پر قدم رکھا۔اسی سال تھوڑے تھوڑے وقفہ سے حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب کو ڈیانوی (ملٹری میں) شیخ محمد بخش صاحب ساکن کڑیانوالہ ضلع گجرات (بعمدہ ہیڈ ) جمعداری) حضرت شیخ نور احمد صاحب جالندھری اور حضرت شیخ حامد علی صاحب ساکن تھہ غلام نبی متصل قادیان - حضرت حافظ محمد اسحق صاحب اور ان کے بھائی میاں قطب الدین صاحب ساکن بھیرہ