تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 249 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 249

تاریخ احمدیت۔جلد ۶ ۲۳۵ باشندوں میں پورے زور کے ساتھ کام شروع کر دیا۔تعلیمی و طبی ادارے اور یتیم خانے قائم کئے اور خدمت خلق کے مختلف قسم کے کام سرانجام دینے کے علاوہ تبلیغ کے ذریعہ سے اس طرح عیسائیت کی اشاعت کی کہ بیسویں صدی کے پہلے اڑتیں انتالیس برسوں میں پروٹسٹنٹ اور رومن کیتھولک کی اٹھارہ سوسائٹیوں کی زبردست جدوجہد کے نتیجہ میں افر متقن آبادی کا دسواں حصہ عیسائیت کی آغوش میں چلا گیا اور جہاں مسلمانوں کی کثرت تھی یا ہے وہاں ارد گرد کے علاقہ میں عیسائی مشن نے سکول وغیرہ کھول کر یہ کوشش کی کہ کینیا کالونی کے جس تھوڑے سے حصہ میں اسلام ہے وہاں سے بھی وہ رخصت کر دیا جائے۔چنانچہ ۳۹ - ۱۹۳۸ء کے قریب عیسائیوں نے A NEW DAY IN" " KENY A کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں لکھا۔"THE FACT THAT MOHAMMEDANISM IN KENYA HAS BEEN LARGELY DECADENT AND APETHETIC IS NO REASON WHY THOSE PROFESSING IT SHOULD BE NEGLECTED۔” صفحه ۳۲ زیر عنوان THE MUSLEM PROBLEM) یعنی یہ حقیقت کہ مذہب اسلام کینیا میں بہت حد تک زوال پذیر ہو رہا ہے اس امر کی وجہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگ جو اپنے تئیں اسلام کی طرف منسوب کر رہے ہیں نظر انداز کر دیئے جائیں اور انہیں عیسائیت کی تبلیغ نہ کی جائے۔نیز لکھا۔ISLAM IS TODAY AT THE CROSSROAD۔BUT WILL THE CHRISTIAN CHURCH SEIZE THE OPPORTUNITY? P۔133 یعنی اسلام تو اب دم توڑ رہا ہے لیکن کیا عیسائیت اس موقعہ سے فائدہ اٹھائے گی اور اسے بھی۔پورے طور پر اپنے قبضہ میں کرے گی ؟ زنجار جو مشرقی افریقہ کی اسلامی سلطنت کا مرکز رہا ہے سب سے زیادہ عیسائیت کے نرغہ میں گھر گیا اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ اسلام کے خلاف سب سے زیادہ لٹریچر یہیں سے شائع ہونے لگا۔حتی کہ یہاں سے سواحیلی میں قرآن مجید کا ترجمہ بھی شائع کیا گیا۔جس سے اسلام کے خلاف غلط فہمیوں کا وسیع دروازہ کھل گیا۔زنجبار میں یونیورسٹیز مشن نے ہیڈ کوارٹر قائم کر لیا اور اس کے زیر انتظام بہت بڑا سکول پریس اور کتب خانہ کھل گیا۔یہاں سواحیلی اور عرب باشندوں میں اگر چہ عیسائیت نہیں پھیلی۔لیکن ان کے تمدن و تہذیب کو مغربیت کا جامہ پہنا کر انہیں ذلیل بنا دیا گیا۔یوگنڈا میں عیسائی مشنریوں نے اپنا کام ۱۸۶۲ء میں شروع کیا اور پچھتر سال کے اندراند رعیسائیوں نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا۔حد یہ ہے کہ مسلمانوں نے جو صدیوں تک حکمران رہے پادریوں کو تو ہر قسم کے آرام پہنچائے اور سہولتیں مہیا کیں لیکن خود تبلیغ اسلام کے لئے کوئی خاص جد و جہد نہ کی اس