تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 7
تاریخ احمدیت جلد ۶ اصل هذه الندلة و مبلغ صلتها بالاسلام" ترجمہ : قادیانی لوگ اپنے مذہب کی طرف دعوت دینے میں مستعدی اور نشاط سے کام کر رہے ہیں اور چونکہ وہ اپنے دین کی بنیاد بعض اسلامی تعلیمات پر رکھتے ہیں۔اس لئے ان کو موقعہ مل گیا کہ اسلام کے مبلغ ہونے کا دعوی کریں انہوں نے اپنے مبلغ شام، فلسطین ، مصر ، جدہ ، عراق اور دو سرے بلاد اسلامیہ کی طرف بھیجے ہیں۔کئی مرتبہ ہمارے پاس بلاد عربیہ اور امریکہ سے خطوط آتے ہیں جن کے لکھنے والوں نے دریافت کیا ہے کہ اس جماعت اور دین کی حقیقت کیا ہے اور ان کا اسلام سے کس قدر تعلق ہے "۔۱۹۳۲ء کے ماحول کو سمجھنے کے لئے اوپر کی تحریرات کا ۱۹۳۲ء کے ماحول کا دوسرا رخ مطالعہ مفید ہے مگر یہ حقیقی صورت حال کا صرف ایک پہلو ہے دوسرا پہلو اور رخ جس کا جاننا اس دور کی مذہبی اور سیاسی فضاء کا جائزہ لینے کے لئے ضروری ہے یہ ہے کہ یہی وہ سال ہے جس میں بعض مخالفین حق نے جماعت احمدیہ کی بڑھتی ہوئی ترقی کو روکنے بلکہ اسے صفحہ ہستی سے بالکل محو کر دینے کی دھمکی دی۔اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تمام مخالف احمدیت طاقتیں میدان مخالفت میں اتر پڑیں۔حتی کہ صوبہ پنجاب میں برسراقتدار انگریزی حکومت کی پوری سرکاری مشینری حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ا اور جماعت احمدیہ کے خلاف حرکت میں آگئی اور سراسر ناروا ناشائستہ اور نا جائز حربوں سے حملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے لگی۔احمدیت کے خلاف اپنی نوعیت کی اس پہلی منظم اور ہمہ گیر مخالفت کے اسباب و علل کیا تھے ؟ اور حکومت کے افسروں نے اس میں سرگرم حصہ کیوں لیا؟ اور انگریزی حکام کی نگاہ میں جماعت احمد یہ جیسی خادم دین اور خادم ملک جماعت کے کون کون سے مفروضہ "جرائم" تھے جن کی پاداش میں اسے مسلسل کئی برس تک نہایت درجہ المناک حالات اور لرزا دینے والے مصائب و مشکلات سے دو چار ہونا پڑا ؟ دور ابتلا کی یہ جملہ تفصیلات دوسرے باب میں آرہی ہیں جہاں ۱۹۳۴ء کی قادیان احرار کا نفرنس کے پس منظر اور اس کے اثرات و نتائج پر روشنی ڈالی گئی ہے۔لیکن چونکہ مندرجہ بالا الٹی میٹم کا تعلق ایک ایسے واقعہ سے ہے جو ۱۹۳۲ء میں پیش آیا اس لئے اس مقام پر جبکہ ہم اس سال کے تفصیلی واقعات درج کرنے سے پہلے اس کا اجمالی تعارف کرارہے ہیں اس واقعہ کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ان کا بیان ہے کہ۔۱۹۳۲ء کا ایک واقعہ بعض مسلمان کہلانے والوں نے محسوس کیا کہ جماعت احمد یہ اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ اگر اس