تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 163 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 163

تاریخ احمدیت جلد ۲ فظ مولوی صاحبان نے سخت اشتعال اور منافرت پیدا کر دی تھی اس لئے انہوں نے میونسپلٹی میں ایک محضر نامہ پیش کیا جس پر میونسپلٹی نے اپنا پہلا ریزولیوشن منسوخ کر دیا اور مخالفین کی طرف سے گورنر تک کو تار دیئے گئے مگر اس مخالفت نے جماعت کے دلوں میں ایک عجیب کیفیت پیدا کر دی۔اور وہ انابت الی اللہ کے سچے جذبے کے ساتھ خشوع و خضوع سے دعاؤں میں لگ گئے رات کے وقت بعض احمدی خفیہ طور پر اس مقام پر آتے اور نوافل پڑھتے۔انہوں نے اپنے پیارے آقا خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں بھی دعا کے لئے درخواستیں کیں۔ایک رات جماعت لائل پور کے پریذیڈنٹ شیخ محمد محسن صاحب نے دعا کی تو اللہ تعالی نے ان کی زبان پر انا فتحنا لک فتحا مبینا کے الفاظ جاری کر کے قبل از وقت کامیابی کی بشارت دے دی۔بالآخر خدا کے فضل اور اس کی بشارت کے مطابق جماعت کی کوششیں بار آور ہو ئیں اور زمین کی منظوری ہو گئی اور اس کا قبضہ مل گیا۔HD جماعت کے دل میں مسجد کی تعمیر کا پہلے ہی زیر دست جذبہ موجزن تھا اب جو غیر معمولی حالات میں حصول زمین میں کامیا! ہوئی تو اس کے اندر اور زیادہ جوش پیدا ہو گیا اور اس ایک سال کے اندر اندر اس مقام پر ایک الشان مسجد تیار کرنے کی توفیق مل گئی۔اس مسجد کی تعمیر میں یوں تو لائل پور کے سب احمدیوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور مالی قربانیاں کیں۔مگر بعض مخلصین نے جن میں شیخ محمد - احب مرحوم پریذیڈنٹ لائل پور سر فہرست ہیں اس موقعہ پر انتہائی اخلاص کا ثبوت دیا۔شیخ محمد محسن صاحب نے بیش قیمت مالی امداد کے علاوہ مہتم تعمیر کے فرائض بھی سرانجام دیئے اور اپنی المیہ ( محترمہ اللہ جوائی صاحبہ مرحومہ) کی وصیت پر ان کی یادگار کے طور پر مسجد کے ساتھ ایک کنواں تعمیر کرایا اس طرح مسجد میں بجلی کی فٹنگ کا تمام خرچ اپنی جیب خاص سے ادا کیا اور زندگی بھر مسجد کی روشنی کا پورا خرچ خود ہی برداشت کرتے رہے بلکہ ان کی وفات کے بعد اب تک ان کی دوسری بیگم محترمہ محمودہ صاحبہ (ہمشیرہ شیخ بشیر احمد صاحب سابق حج ہائی کورٹ لاہور ) ادا کر رہی ہیں۔شیخ محمد محسن صاحب کے بھائی شیخ مولا بخش صاحب ( غیر مبائع) نے بھی اس کارخیر میں حصہ لیا۔چندہ کی وصولی کے لئے شیخ محمد محسن صاحب، شیخ مولا بخش صاحب قریشی محمد حنیف صاحب سائیکل سیاح ماسٹر عبد الرحمن صاحب بی اے بی ٹی اور شیخ محمد یوسف صاحب نے دورہ کیا۔چوہدری عطا محمد صاحب نائب تحصیلدار نے مسجد کی تعمیر کے لئے بطور عمومی کارکن اور شیخ بابو ولایت محمد صاحب نے انجینئر کی حیثیت سے قابل رشک خدمات سرانجام دیں۔اخوند افضل خاں صاحب آف ڈیرہ غازی خاں نے بھی اس مسجد کی تیاری کے لئے بہت امداد کی RAI علاوہ ازیں مولانا قاضی محمد نذیر صاحب فاضل نے (جو -