تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 132
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۳۲ انگلستان میں اس سال مبلغین کی تبدیلی ہوئی ہے اس وجہ سے مولوی عبد الرحیم صاحب درد کام کو سنبھال رہے ہیں۔میں نے انہیں اب کے ہدایت کی تھی کہ علمی طبقہ میں کام کریں۔اس کے لئے وہ کوشش کر رہے ہیں چنانچہ پادریوں کے ایک کلب میں انہوں نے تقریر کی جس کا اچھا اثر ہوا امید ہے کہ وہاں بھی علمی طبقہ پر احمدی مبلغین کا سکہ بیٹھ جائے گا۔مولوی اللہ دتہ صاحب شام اور مصر میں اچھا کام کر رہے ہیں وہاں احمدیت کی شدید مخالفت ہو رہی ہے۔بعض احمدیوں کو پینا بھی گیا ہے۔حکومت بھی خلاف ہے۔حیفہ میں ایک بہت بڑی جماعت قائم ہے جس کے بہت سے افراد مولوی جلال الدین صاحب شمس کے وقت کے ہیں مگر مولوی اللہ دتہ صاحب کام کو خوب پھیلا رہے ہیں۔افریقہ کے مبلغ حکیم فضل الرحمن صاحب بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں وہاں میں ہزار کی جماعت قائم ہو چکی ہے احمدیوں کے چھ سکول ہیں۔وہاں کے احمدیوں میں سے ہی کئی ایک بطور مبلغ کام کرتے ہیں "۔ہیں" بعض مخلص احمدی نوجوانوں اور نئے مبلغوں کا ذکر ۳۳- ۱۹۳۲ء کو تاریخی نقطہ نگاہ سے یہ بھاری خصوصیت حاصل ہے کہ اس میں جماعت احمدیہ کے بعض ایسے مخلص نوجوان آگے آئے جنہوں نے آئندہ چل کر سلسلہ کی شاندار خدمات سرانجام دیں اور جن کا نام بنام ذکر کرتے ہوئے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے سالانہ جلسہ ۱۹۳۳ ء پر ارشاد فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے پنجاب میں ایک نئی روح پیدا ہو رہی ہے کچھ عرصہ پہلے مردنی سی چھائی ہوئی تھی۔لیکن دو سال سے بیداری پائی جاتی ہے۔اور خدا تعالیٰ کے فضل سے اچھے مخلص نوجوان پیدا ہو رہے ہیں۔ان میں سے بعض کے نام آج میں لے دیتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سنت پر کہ آپ بھی مخلصین کا نام لے کر ذکر کر دیا کرتے تھے پھر اس لئے بھی کہ جن کے نام لئے جائیں ان میں غیرت پیدا ہو جائے کہ اس عزت کو قائم رکھنا ہے۔کئی مخلص نوجوان ہیں جن میں سے بعض کے لئے ان کی سرگرمیوں کے متعلق حد بندیوں کی ضرورت ہے اور بعض کے لئے قوت عملیہ کے بڑھانے کی ضرورت۔ان میں سے ایک تو۔۔۔چودھری فقیر محمد خان صاحب ہیں یہ نسبتا پر انے احمدی ہیں اور نوجوانوں کے لئے اچھا نمونہ ہیں۔ایک چوہدری اعظم علی صاحب ہیں یہ نئے جماعت میں داخل ہوئے ہیں انہوں نے اخلاص کا نہایت اچھا نمونہ دکھلایا ہے وہ شیعوں میں سے آئے ہیں لیکن تھوڑے ہی عرصہ میں انہوں نے اخلاص کا قابل تعریف نمونہ پیش کیا ہے اور میں کوئی وجہ نہیں دیکھتا کہ اور نئے آنے والے کیوں نہ ان کی طرح دین میں ترقی کر سکیں۔بیعت کرنے کے چھ ماہ بعد جب میں نے ان کی