تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 126
تاریخ احمدیت جلده پہنائے۔جناب خواجہ حسن نظامی صاحب نے روزنامہ "عادل ۱۳/ دسمبر ۱۹۳۳ء کے صفحہ اول پر مسلم سیاست کی دو آنکھیں "میاں سر فضل حسین اور چوہدری ظفر اللہ خان کے دوہرے عنوان سے تحریر فرمایا۔اگر خدا نے ہندو قوم کو گاندھی اور جواہر لال اور مالوی جیسے مخلص اور لائق لیڈر دیئے ہیں تو مسلمانوں کو بھی میاں سر فضل حسین اور چوہدری ظفر اللہ جیسے سراپا اخلاص اور لیاقت سے بھر پور لیڈر عطا فرمائے ہیں۔یہ دونوں مسلمانوں کی سیاست کی دو آنکھیں ہیں بلکہ دو سانس ہیں جو بظا ہر دو مگر در حقیقت ایک ہی ہیں اور مسلمان قوم ان دونوں کے وجود پر فخر کرتی ہے اور اللہ تعالٰی کی شکر گزار ہے کہ اس نے اس قحط الرجال میں ایسے رہنما اس کو دیئے ہیں۔جو حریفوں میں بھی بے مثل مانے جاتے ہیں۔میاں سر فضل حسین نے ہندوستان میں اور چوہدری ظفر اللہ نے انگلستان میں مسلمانوں کی بے کس قوم کی جو سیاسی خدمات انجام دی ہیں ان کو موجودہ مسلمانان ہند اور ان کی آئندہ نسلیں ہمیشہ یاد رکھیں گی۔آج چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اپنی مسلمان قوم کی خدمات انجام دے کر انگلستان سے واپس آئے ہیں۔اور پایہ تخت دہلی کے مسلمان تمام مسلمانان ہند کی طرف سے اپنی آنکھوں کا فرش ان کے راستہ میں بچھاتے ہیں۔حسن نظامی ۹ / د سمبر ۱۹۳۳ء 2 PAL اخبار سیاست " لاہور نے ۱۳ / دسمبر ۱۹۳۳ء کی اشاعت میں لکھا۔" ہم بہ مسرت تمام چودھری ظفر اللہ خان صاحب اور ڈاکٹر شفاعت احمد خان صاحب کو ولایت سے مع الخیر واپس تشریف لانے پر مبارکباد عرض کرتے اور ان کی قوم اور ان کے ملک کی طرف سے ان کا خیر مقدم کرتے ہیں حقیقت یہ ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ حکومت ہند نے اگرچہ مسلمانوں کو پارلیمینٹ کی ہندوستان کے متعلق مجلس منتخبہ مشترکہ کے لئے نمائندے چنے کا حق نہیں دیا۔تاہم اس نے خود ایسے مسلمان اپنے جنہوں نے مسلمانوں کی نمائندگی کا حق کما حقہ ادا کیا۔تمام مسلم نمائندے جس اتحاد و یگانگت سے کام کرتے رہے ہیں وہ مسلمانوں کی کامیابی کا بہت بڑی حد تک ذمہ دار ہے اور یوں ہر مسلمان رکن مجلس وغیرہ ہمارے دلی شکریہ کا مستحق ہے۔لیکن ان نمائندوں میں سے چودھری ظفر اللہ خاں اور ڈاکٹر شفاعت احمد خاں نے جس قابلیت اور صفائی سے مسلمانوں کے نقطہ نگاہ کو پیش کیا اور جس طرح دلائل سے ہمارے مطالبات کی صداقت کو واضح کیا۔وہ انہی کا حصہ تھا۔اور ہم ان کا شکریہ ادا