تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 105
تاریخ احمدیت جلد ۶ قرطاس ابیض کی تجاویز کو انہوں نے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے ”ہندوستان کو فریب" مترادف قرار دیا اور فرمایا کہ انگریزوں کے لیئے حقیقی تحفظ تو ہندوستانیوں کی نیک رائے میں ہے۔قرطاس ابیض کی تجاویز تحفظ کے طور پر کار آمد نہیں ہو سکتیں کیونکہ اس کے ماتحت ہندوستان کا مستقبل درخشندہ نہیں ہو سکتا ہندوستان تو انصاف پر مبنی اور حتمی فیصلہ کا خواہش مند ہے جو حقیقی معنوں میں سیلف گورنمنٹ حاصل ہونے سے ہو سکتا ہے تا معقولیت پسند راہنما اعتدال پسند رائے عامہ کو اپنے گرد جمع کر کے دستور چلا سکیں۔(ترجمہ "اخبار مدراس میل" ۱۷ اپریل ۱۹۳۳ء) اخبار " سنڈے ٹائمز“ نے لکھا ہے: ومبلڈن میلروز روڈ پر واقع چھوٹی سی مسجد کی گراؤنڈ میں ایک بڑے مجمع سے مشہور ہندوستانی مسلمان راہنما نے خطاب کیا۔تقریر کا موضوع تھا۔”ہندوستان کا مستقبل " سر نیئر نے سٹیوارٹ سنڈیمان SIR NAIRNE STEWART SANDEMAN نے صدارت کے فرائض سرانجام دیئے۔ایک خاصی تعداد میں غیر مسلم بھی موجود تھے۔مسٹر محمد علی جناح نے ایک قوم پرست (NATIONLIST) کے نقطہ نگاہ کے مطابق قرطاس ابیض اور اس میں مندرج تحفظات پر سخت تنقید کی۔لیکن صاحب صدر نے اپنے جواب میں چرچل کے یہ کو اپنایا اور اس کے نتیجہ میں سامعین میں سے بعض مسلمان طلباء نے مداخلت کی اور آوازے کے۔لیکن بالآخر امام مسجد لنڈن نے انہیں خاموش کردا دیا"۔(ترجمہ " اخبار سنڈے ٹائمز ۹ / اپریل ۱۹۳۳ء) یہ خبر اخبار ” دی سول اینڈ ملٹری گزٹ " (لاہور) ۸ / اپریل ۱۹۳۳ء صفحہ میں بھی شائع ہوئی۔روید (ناقل) اس تقریر نے انگلستان اور ہندوستان دونوں ممالک میں زبردست تہلکہ مچا دیا۔جس کے بعد نواب زادہ لیاقت علی خاں اور ان کی بیگم قائد اعظم کی خدمت میں جولائی ۱۹۳۳ ء میں حاضر ہوئے اور ہندوستان واپس آنے کی درخواست کی۔آخر آپ ہندوستان واپس تشریف لائے۔اور پاکستان کے حصول تک مسلمانوں کی کامیاب قیادت فرمائی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو مسلمانوں کے ہر مذہبی بوہرہ جماعت کے قومی مفاد کا تحفظ فرقہ سے محبت تھی اور آپ ان کے قومی مفاد کی حفاظت کے لئے ہر وقت کمر بستہ رہتے تھے اس ضمن میں بوہرہ کمیونٹی کے امام سے بھی حضور کے مراسم و روابط تھے۔انہی دنوں بوہروں میں باہمی چپقلش پیدا ہوئی۔جس کو ختم کرنے اور ان کی مرکزیت بر قرار رکھنے کے لئے حضور نے کیا اقدام فرمایا ؟ اس کا ہلکا سا تصور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے