تاریخ احمدیت (جلد 6)

by Other Authors

Page 104 of 619

تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 104

تاریخ احمدیت - جلد ۶ ۱۰۴ ختم ہو گیا۔اب میں مایوس ہو چکا تھا مسلمان بے سہارا اور ڈانواڈول ہو رہے تھے کبھی حکومت کے یار و فاداران کی راہ نمائی کے لئے میدان میں آموجود ہوتے تھے کبھی کانگریس کے نیاز مندان خصوصی ان کی قیادت کا فرض ادا کرنے لگتے تھے۔جب کبھی مسلمانوں کو منتظم کرنے کی کوشش کی گئی۔ایک طرف ٹوڈیوں اور پھوؤں نے اور دوسری طرف کانگریس میں شامل غداروں نے یہ کوششیں ناکام بنا دیں۔اس لئے مجھے محسوس ہونے لگا کہ ان حالات میں نہ تو میں ہندوستان کی خدمت کر سکتا ہوں۔نہ ہندو ذہنیت کو بدل سکتا ہوں اور نہ مسلمانوں کو ان کی نازک حالت سے خبردار کر سکتا ہوں میں اس حد تک مایوس ہو گیا اور میرے قلق کا یہ عالم تھا کہ میں نے انگلستان میں رہائش اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا یہ اقدام اس وجہ سے نہیں کیا گیا کہ میرے دل میں ہندوستان کے ساتھ محبت نہ رہی تھی بلکہ اس کی وجہ اصلاح احوال سے میری عاجزی تھی۔"جناح"۔مصنفہ ہاکڑ بولیتھو لنڈن ۱۹۵۴ء صفحہ ۱۰۰۔(JINNAH BY HOCTER, BOLITTO, LONDON- 1954, PAGE 100) مندرجہ بالا بیان کے مطابق قائد اعظم محمد علی جناح نے لنڈن (ویسٹ ہیتھ ہاؤس ہیمپ سٹیڈ) (WEST HEATH, HOUSE, HAMPSTEAD) میں رہائش اختیار کر لی اور وکالت شروع کردی۔میں نے قائد اعظم سے مارچ ۱۹۳۳ء میں ان کے دفتر واقع KING,S BENCH) (WALU LONDON میں ملاقات کی اور تین گھنٹوں کی بحث و تمحیص کے بعد انہیں اس بات پر آمادہ کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ مسلمانان ہند کی خدمت کے لئے وہ پھر پبلک میں آئیں۔قائد اعظم میری درخواست پر ”ہندوستان کا مستقبل " کے موضوع پر تقریر کرنے کے لئے رضامند ہو گئے۔اور میں نے ۶۳ میلروز روڈ لنڈن میں تقریر کے لئے انتظامات کروا دئیے۔" اخبار " مدراس میل " نے لکھا۔پریس میں تقریر کا چرچا ہندوستان کے مسلمان را ہنما ایم۔اے جناح نے امام درد کی دعوت پر تقریر کی جس کا موضوع تھا ” ہندوستان کا مستقبل “۔انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندوستان سماجی اقتصادی اور سیاسی طور پر ترقی کر رہا ہے اور ملک میں ایک نئی سیاسی زندگی ابھر رہی ہے۔لیکن تاوقتیکہ ایک معقول حد تک سیلف گورنمنٹ نہ دی جائے اطمینان یا امن کی امید رکھنا عبث ہے حالات یہ صورت اختیار کر گئے ہیں کہ انگریزی راج یا سلطنت برطانیہ کے اندر رہتے ہوئے ہندوستانی راج میں سے ایک کو اختیار کرنے کا مسئلہ پیدا ہو چکا ہے۔