تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 101
تاریخ احمدیت۔جلد 1۔1 نے محسوس کیا کہ خلافت کا وجود ہر قصور وار اور خطا کار کے لئے آیہ رحمت ہے بشرطیکہ اسے اپنی غلطی پر حقیقی ندامت اور پشیمانی ہو۔22 حضرت مفتی محمد چینی اور جاپانی مسلمانوں کیلئے جاپانی حکومت سے خط و کتابت صادق صاحب نے جاپانی قونصل جنرل کو ایک خط لکھا تھا جس میں جاپانی و چینی مسلمانوں کے خلاف حکومت کے رویہ پر تشویش کا اظہار کیا۔جاپانی قونصل جنرل نے جواب بھیجا کہ ” میں آپ کو بخوشی اطلاع دیتا ہوں کہ حکومت جاپان کو مسلمانوں کے خلاف ہرگز کوئی تعصب نہیں ہے جاپان میں اہل اسلام کو اپنے مذہب اور قومی تہذیب و تمدن کے لحاظ سے پوری آزادی ہے “۔نیز لکھا کہ : " جاپان کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں کہ اہل چین کے ساتھ جنگ کرے۔۔چین میں مسلم آبادی بہت غربی جانب ہے اور موجودہ چینی جاپانی لڑائی کا اس حصہ ملک پر کوئی اثر نہیں جن چینیوں سے اس وقت جاپان کی لڑائی ہے وہ چین کے قوم پرست ہیں جو کمیوتل Hal خیالات کے زیر اثر ہیں چین کے مسلمان ان خیالات میں ان کے ساتھ متحد نہیں "۔"بیت النصرت کی بنیاد ۲۳ فروری ۱۹۳۳ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اپنے دست مبارک سے حضرت ام المومنین کی کو ٹھی "بیت النصرت " کا سنگ بنیاد رکھا۔جیسا کہ قبل ازیں ذکر آچکا ہے حضرت ام المومنین نے یہ کو بھی حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب کے لئے بنوائی تھی جن سے آپ کو از حد محبت تھی۔چنانچہ مولوی سید بشارت احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ حیدر آباد دکن کی اہلیہ محترمہ کا بیان ہے کہ یوں تو خاندان کے بنیادی فرد ہونے کی حیثیت میں آپ ہر فرد خاندان سے محبت و الفت سے پیش آتی ہیں لیکن حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب اپنے بڑے پوتے سے خاص الفت ہے۔ایک مرتبہ عاجزہ کو حضرت صاحبزادہ صاحب کا مکان لے جا کر بتلایا جو آپ نے بنوایا تھا آپ نے اس مکان کے بالائی حصہ میں بیت الد عاد کھا کر فرمایا کہ میں نے تبر کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مکان کی ایک اینٹ اس کو ٹھی کے بالائی حصہ میں لگوادی ہے۔آپ کا یہ جذبہ عقیدت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی ہزار دلیلوں سے بڑھ کر ایک دلیل ہے۔مرکز میں صیغہ نشرو اشاعت کا قیام مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء میں ایک اہم فیصلہ یہ ہوا کہ نظارت دعوة و تبلیغ کے ماتحت ایک اشاعتی ادارہ قائم کیا جائے جس کا مقصد مقامی ضرورتوں کے مطابق اشتہارات اور ہینڈ بلز کی اشاعت کا انتظام ہو۔اس