تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 100
تاریخ احمدیت۔جلد ۶ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے منہ سے نکل گیا کہ اس عدالت کی عجیب شان ہے جس میں صدر عدالت ان کے مشیر اور ملزم ایک ہی میز پر ایک ہی قسم کے برتنوں اور ایک ہی قسم کی اشیاء کا ناشتہ کر رہے ہیں۔ایسی حالت میں زیر الزام اشخاص قدر تا جھینپتے اور شرماتے۔اس وقت قمر الانبیاء حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے میزبانی کے فرائض ادا فرماتے اور اپنے ہاتھ سے اشیاء اٹھا اٹھا کر ان کے آگے رکھتے۔حاصل کلام یہ کہ جب معاملہ کے ایک حصہ کی تحقیقات پایہ تکمیل کو پہنچی۔تو ۱۰ / فروری کو خطبہ جمعہ میں حضور نے یہ اعلان فرمایا کہ بات اس سے بھی زیادہ اہم اور افسوسناک تھی جس قدر کہ مجھے پہلے خطبہ کے وقت نظر آتی تھی۔اور باوجو د رحم کے ایک شدید جذبہ کے جو ایک باپ کو اپنے بچہ کے متعلق پیدا ہوتا ہے۔میں اس فیصلہ پر مجبور ہوا ہوں کہ بعض ایسے لوگ اساتذہ میں سے بھی ہیں کہ جن کے فعل کی برائی حد سے بڑھی ہوئی ہے اور انہوں نے اپنے افعال سے اپنے آپ کو اس مقام پر کھڑا کر دیا ہے کہ ان کے معاملہ پر غور کیا جائے اور اگر اللہ تعالی ان کے لئے عفو کے سامان پیدا نہ کرے تو انہیں ان کے اعمال کے مطابق سزادی جائے اس وضاحت کے بعد حضور نے اس مظاہرہ میں نمایاں حصہ لینے والوں کی نسبت حکم دیا کہ ان کے ساتھ کوئی احمدی اطلاع ثانی تک کوئی کلام نہ کرے۔چنانچہ ۱۰/ فروری سے لے کر ۱۸ / فروری تک جبکہ حضور کی طرف سے معافی کا اعلان نہ ہو گیا ان کے ساتھ کسی نے کلام نہ کیا اور ان لوگوں نے بھی یہ ایام نہایت تضرع و زاری میں گزارے اور شب و روز توبہ و استغفار میں مصروف رہے اور روزہ رکھ کر خدا تعالی کے حضور گریہ وزاری سے دعائیں کرتے رہے۔جب ہر لحاظ سے تحقیقات مکمل ہو گئی تو حضور کے حکم پر ۱۸ / فروری ۱۹۳۳ء کو صبح ساڑھے دس بجے تک سب لوگ مسجد اقصیٰ میں جمع ہوئے اور حضور نے اپنا فیصلہ سنایا جس جس شخص نے کوئی نازیبا حرکت کی تھی اس کا ذکر بھی کیا۔اور فرمایا کہ اگر ان ایام میں ایسے لوگوں کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہو اور کچی ندامت بھی پیدا ہو چکی ہو۔تو وہ کھڑے ہو کر اس کا اظہار کر دیں۔اور خداتعالی خلیفہ وقت اور جماعت سے معافی مانگیں نیز آئندہ کے لئے اپنی اصلاح کا اقرار کریں تو انہیں معافی دے دی جائے گی۔اس پر متعلقہ اصحاب باری باری اٹھے اور رو رو کر انشراح صدر سے معافی مانگی اور اپنے افعال پر ندامت کا اظہار کیا۔جس پر حضور نے ان کو معاف فرما دیا البتہ بعض طلباء و اساتذہ کی معافی بعض شرائط کے ساتھ مشروط کر دی۔عفو و معافی کا یہ عجیب نظارہ تھا جس میں اپنے مشفق آقا اور رحیم و کریم امام کی زبان مبارک سے محبت و شفقت سے لبریز فیصلہ سن کر ہر آنکھ پر نم ہو گئی۔خوشی اور مسرت کے آنسو نکل پڑے۔اور ہر دل