تاریخ احمدیت (جلد 6) — Page 87
تاریخ احمدیت جلد ۶ پہلا باب (فصل پنجم) AC ۱۹۳۲ء کے بعض متفرق مگر اہم واقعات خاندان مسیح موعود میں ترقی ۲۳-۲۴/مارچ ۱۹۳۲ء کی درمیانی شب کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے حرم رابع حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ کے بطن سے - مرزا حنیف احمد صاحب پیدا ہوئے۔میاں عبد الرحیم خاں کا نکاح ۱۱/ نومبر ۱۹۳۲ء کو میاں محمد عبد الرحیم خان صاحب (ابن حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ ) کا نکاح نواب زاده جعفر علی خان صاحب برادر خور د ہزہائی نس نواب صاحب مالیر کوٹلہ کی دختر نیک اختر قدسیہ بیگم صاحبہ سے پڑھا گیا۔۲۹/ نومبر ۱۹۳۴ء کو تقریب رخصتانہ عمل میں آئی۔۱۸۵ سر محمد شفیع صاحب کا انتقال شمالی ہند کے مشہور مسلم لیڈر اور پنجاب مسلم لیگ کے سابق صدر سر محمد شفیع ۷ / جنوری ۱۹۳۲ء کو لاہور میں انتقال کر گئے تھے اس اندوہناک قومی حادثہ پر حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی طرف سے ناظر صاحب امور خارجہ قادیان نے ان کے بیٹے میاں محمد رفیع صاحب کو حسب ذیل تار ارسال کیا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے ہدایت ہوئی ہے کہ آپ کے والد ماجد کی اندوہناک وفات پر دلی ہمدردی کا اظہار کروں۔مسلمان اپنے حقوق کے ایک زبر دست نگران اور ہندوستان ایک اعلیٰ درجہ کے مدیر کی خدمات سے ایسے وقت میں محروم ہو گیا ہے۔جبکہ اس کی سخت ضرورت تھی"۔جلسہ تقسیم انعامات ۲۱ / جنوری ۱۹۳۲ء کو تعلیم الاسلام ہائی سکول کا جلسہ تقسیم انعامات منعقد ہوا۔جس میں حضور نے بھی شرکت فرمائی۔اور تعلیم الاسلام اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کو قیمتی ہدایات سے نوازتے ہوئے تلقین فرمائی کہ انعام حاصل کرنے کے لئے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہئے۔اس سال پہلی بار طلبہ مدرسہ کا ایک خاص امتحان دینیات کا لیا گیا امتحان کے پرچے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے اور حضرت میرسید محمد اسحق صاحب نے بنائے اور ان کو حضرت ملک غلام فرید صاحب ایم اے ، ڈاکٹر سید عنایت اللہ شاہ صاحب اور حضرت مولوی محمد حسن