تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 719 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 719

تاریخ احمد ممت احمد ست - جلد ۵ 691 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ طرف اشارہ کر کے غالب کا یہ شعر ذراسی تبدیلی کے ساتھ یوں پڑھا۔ہوئے "جی" کے ہم جو رسوا ہوئے کیوں نہ غرق دریا نہ کہیں جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا ڈاکٹر بشیر محمود کو شعر و سخن سے خاص شغف تھا اور کبھی کبھار طبع آزمائی بھی کر لیتے تھے ایک طرحی مشاعرے میں جس میں طرح مصرع تھا۔پر ایک شعر یوں کہا۔ان کھڑکیوں سے جھانک رہی ہے فضا مجھے آئی نہ راس پونچھ کی آب و ہوا مجھے ان چوٹیوں سے جھانک رہی ہے قضا مجھے۔ڈاکٹر مرحوم کے کردار کی بلندی کا یہ عالم تھا کہ پونچھ میں ان کے حریف ہندو ڈاکٹروں نے ایک سازش کی اور ڈاکٹر صاحب کے ہی کمپونڈر جمشید کے ہاتھ سے انہیں زہر پلا دیا۔مگر ان کے صحت مند جسم میں زہر ملک اثر نہ کر سکا۔انہیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ انہیں زہر جمشید نے دیا ہے انہوں نے جمشید کو معاف کر دیا اور اسے نیک راہ پر چلنے کی تلقین کی۔اس واقعہ کے چند مہینوں بعد وہ پونچھ سے سرینگر میں منتقل ہو گئے اور میرا کدال چوک میں جسے اب لال چوک کہا جاتا ہے کارو نیشن ہوٹل کی بلڈنگ میں " مسلم میڈیکل ہال" کے نام سے کلینک کھولا۔یہ تشکیل پاکستان سے پہلے کی بات ہے۔میں نے ڈاکٹر صاحب مرحوم کو اسی کلینک میں دیکھا تھا۔ان کی رہائش گاہ ہمارے محلہ مائی سوماں میں تھی۔یہ وہ مقام ہے جہاں پر سیاسی سرگرمیوں کا زور ہو تا تھا۔پنجاب مسلم ہوٹل سیاست دانوں کی آماجگاہ تھا اور نیشنل کانفرنس کے صف اول کے رہنما اسی چوک کے ہوٹلوں اور ریستورانوں میں محفلیں جماتے تھے۔میرا کدل چوک میں پلیڈیم سینما کے ساتھ ڈاکٹر بشیر محمود کا کلینک نظریہ پاکستان کے شیدائیوں کا ایک مرکز تھا جہاں ڈاکٹر صاحب مرحوم اپنے پاکستانی خیالات سے لوگوں کو آگاہ کرتے اور نظریہ پاکستان کی تبلیغ کرتے۔نہ صرف تبلیغ کرتے بلکہ ان کا تعلق تحریک آزادی کشمیر کے ایک زمین دوز گروپ سے بھی قائم تھا۔اس گروپ نے مہاراجہ ہری سنگھ کو گر فتار کرنے یا د سمرہ کے موقع پر ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ڈاکٹر صاحب کا تعلق موجودہ آزاد کشمیر میں ان لوگوں سے تھا جو مسلح جد وجہد پر عمل پیرا تھے۔چنانچہ پاکستان مسلم لیگ نیشنل گارڈ کے سالار میجر خورشید انور سے ان کا با قاعدہ رابطہ قائم تھا اور اس سلسلے میں مشہور کشمیری کارکن خواجہ اسد اللہ کا شمیری بھی سرینگر میں (۱۹۴۷ء) ان سے ملا تھا۔سیاسی اعتبار سے ڈاکٹر بشیر محمود کی وفاداریاں خواجہ غلام نبی گلکار گروپ سے تھیں۔چنانچہ جب