تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 718
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 690 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ایک نہایت متقی پرہیز گار اور با اصول انسان تھے۔خدمت خلق کا جذبہ ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا۔جب کشمیر میں ہیضہ کی وبا پھوٹی تو انہوں نے شب و روز کام کیا اور مریضوں کی دیکھ بھال میں اس طرح مصروف رہے کہ خود اس موذی مرض کا شکار ہو گئے۔اس وقت ڈاکٹر بشیر محمود کی عمر سات برس کی تھی۔تعلیم حاصل کرنے کا جنون تھا مگر مالی مجبوریاں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں۔چھوٹی کلاسیں تو کسی نہ کسی طور پاس کر لیں لیکن کالج کی پڑھائی بہت مہنگی تھی۔اس کا علاج انہوں نے یہ کیا کہ ایک ہوٹل میں ملازمت کرلی۔رات کو ہوٹل میں کام کرتے اور صبح کالج جاتے۔آخر ان کی یہ محنت رنگ لائی اور وہ ڈاکٹر بن کر برطانوی ہند کی حکومت سے منسلک ہو گئے۔طبیعت چونکہ حریت پسند تھی اس لئے فرنگیوں کی ملازمت ذہنی طور پر قبول نہ کی اور جب انہیں پتہ چلا کہ پونچھ میں ملیریا کی وبا پھوٹ پڑی ہے تو ملازمت کو لات مار کر پونچھ میں آن بے اور خدمت اہل وطن میں لگ گئے۔ان کے عمل کا یہ اثر ہوا کہ لوگوں کی نگاہوں میں قدر و منزلت پیدا ہو گئی اور دور دراز سے لوگ علاج معالجے کے لئے آنے لگے۔ان کی مقبولیت اور شہرت غیر مسلموں کو ایک آنکھ نہ بھائی۔نتیجہ یہ کہ ڈاکٹر صاحب کے ہم پیشہ لوگوں نے ان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ڈاکٹر بشیر محمود کو اپنی قوم کی محکومی اور خفتہ بختی پر ہمیشہ ہی پریشانی رہی کیونکہ وہ جہاں ایک اچھے معالج تھے وہاں سیاسی معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے تھے۔ان کی خطر پسند طبیعت ہر وقت کچھ کر گزرنے کی تاک میں رہتی۔چنانچہ عمر کے ساتھ ساتھ ان کا جذبہ حریت بھی بڑھتا چلا گیا۔جب وہ پونچھ کے دور افتادہ علاقوں میں مریضوں کو دیکھنے کے لئے جاتے تھے تو سیاسی بیداری کا کام بھی کرتے تھے۔انہیں اکثر مریضوں کو دیکھنے کے لئے رات کے وقت گھنے جنگلوں میں سے گزرنا پڑتا تھا جہاں درندے ہوتے تھے۔درندوں کے علاوہ لوگ کہتے تھے کہ وہاں جن بھوت بھی رہتے ہیں۔لوگ ڈاکٹر صاحب سے اکثر کہا کرتے تھے کہ یہ جنگل ” بھاری ہے یعنی وہاں شر شرار ہوتے ہیں۔ڈاکٹر بشیر محمود جنس کر جواب دیا کرتے تھے۔" آپ فکر نہ کریں میں خود شر شرار ہوں"۔ڈاکٹر بشیر محمود خوبرو انسان تھے۔قد چھ فٹ نو انچ سرخ و سپید رنگت حاضر جواب، خوش گفتار اور صاحب کردار تھے۔صوم و صلوۃ کے پابند اور عاشق رسول تھے۔ماہر تیراک اور اچھے اتھیلیٹ تھے۔ایک بار ایک مریض کو دیکھنے جارہے تھے کہ راستے میں دریا طغیانی پر تھا۔ساتھیوں نے دریا پار کرنے سے منع کیا مگر انہوں نے دریا میں چھلانگ لگادی اور دریا پار کر گئے اور جان بلب مریض کے لئے مسیحا ثابت ہوئے۔حافظ یعقوب ہاشمی کا بیان ہے کہ واپسی پر جب وہ پانی سے شرابور لباس میں ایک محفل مشاعرہ میں شرکت کے لئے آئے تو ان سے تاخیر کی وجہ دریافت کی گئی۔انہوں نے اپنے لباس کی