تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 714
تاریخ احمدیت جلد ۵ 686 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو بمقام پیرس ہوٹل متصل ریلوے پل راولپنڈی کارکنوں کی کئی میشکیں 4A [44] ہو ئیں۔آخر مسودہ پاس ہو کر خواجہ غلام نبی گلکار انور کے ہاتھ سے لکھ کر انور - بانی صدر " عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر " کے نام سے ہری سنگھ کی معزولی کا اعلان ہوا۔خواجہ غلام نبی گلکار انور صاحب نے یہ تار راولپنڈی صدر تار گھر سے غالباً چالیس روپیہ دے کر دے دیا۔یہ پریس ٹیلیگرام ہندوستان اور پاکستان کے اخبارات کے علاوہ اے پی آئی کو دیا گیا۔راولپنڈی میں اس وقت اے پی پی کا کوئی نمائندہ نہیں تھا مسٹر بشارت ”پاکستان ٹائمز کے نمائندے تھے۔اعلان کے بعد ۵/ تاریخ کو راقم الحروف خواجہ غلام نبی گلکار انور اور بشارت صاحب نے باجازت باقی ممبران کیبنٹ سردار محمد ابراہیم خان صاحب پرائم منسٹر عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر کا بیان تیار کر کے شائع کر دیا گیا جو اخبارات میں چھپ گیا۔خواجہ غلام نبی گلکار انور صاحب بانی صدر عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر کے بیان میں یہ واضح کر دیا گیا کہ ۴/ اکتوبر ۱۹۴۷ء ایک بجے رات کے بعد ہری سنگھ کی معزولی کے ساتھ عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر" کا قیام بمقام مظفر آباد عمل میں لایا گیا۔اور انور اس حکومت کا صدر ہے۔۴/ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو بمقام پیرس ہوٹل راولپنڈی حسب ذیل وزیر اور عہدہ دار مقرر ہوئے چونکہ معاملہ عارضی تھا اور کسی کو کیا گمان تھا کہ یہ حقیقت بن کر رہے گا۔مگر دل سے جو آواز نکلتی ہے اثر رکھتی ہے۔صدر " عارضی جمهوریہ حکومت کشمیر " خواجہ غلام نبی صاحب گلکار انور - پرائم منسٹر سردار محمد ابراہیم خان صاحب مشوره مولوی غلام حیدر صاحب جنڈالوی (سردار ابراہیم خان صاحب میٹنگ میں موجود نہ تھے ) وزیر مالیات سید نذیر حسین شاه وزیر دفاع - مولوی غلام حیدر جنڈالوی، چیف پلیٹی آفیسر گل احمد خان کو ثر ( راقم الحروف) میٹنگ میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ خواجہ انور صاحب کو سرینگر فورا روانہ کر دیا جائے۔اور انہیں مکمل اختیار دے دیا گیا کہ وہ جنہیں مناسب سمجھیں انڈر گراؤنڈ گور نمنٹ میں وزیر یا عہدیدار بنالیں۔چنانچہ ریڈیو سے ۴-۵/ اکتوبر ۱۹۴۷ء کو پے در پے " عارضی جمہوریہ حکومت کشمیر" کے قیام کا اعلان بمقام مظفر آباد ہو تا رہا۔خواجہ انور بانی صدر ۶/ اکتوبر کو راولپنڈی سے روانہ ہوئے اسی روز انہیں مسٹر عبدالرحیم درائی دو میل پل کے پاس ملے تو انہیں ڈیفینس سیکرٹری مقرر کر کے کشمیر چھوڑنے کو کہا۔خواجہ غلام دین صاحب دانی کو بھی مظفر آباد چھوڑنے کو کہا اور ان دونوں صاحبان کو فوری لاہور مرزا صاحب کے پاس جانے کو کہا گیا۔۴/ اکتوبر ۱۹۴۷ء میں یہ فیصلہ بھی ہوا تھا۔کہ وزیر مالیات سید نذیر حسین شاہ صاحب وزیر دفاع مولوی غلام حیدر صاحب ،جنڈالوی گل احمد خان کو ثر " راقم الحروف" اور دیگر لیڈران تحریک جناب مرزا صاحب کی خدمت میں لاہور پہنچ جائیں گے اور مشورہ کریں گے