تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page vii
بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود پیش لفظ بار اول تاریخ احمدیت کی پانچویں اجلد سے خلافت ثانیہ کے مبارک دور کی تاریخ کی ابتدا ہوئی تھی جلد ششم۔اس دور کی دوسری جلد ہے اس جلد کا ہر ہر لفظ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بابرکت وجود جس کے اس دنیا میں آنے سے پہلے یہ کہا گیا تھا کہ وہ اسیروں کا رستگار ہو گا کس شان سے یہ خدا تعالیٰ کا کلام پورا ہوا۔اس جلد میں ان تمام کارناموں کا مبسوط طور پر ذکر کیا گیا ہے جو سید نا حضرت امیر المومنین الصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے متحدہ ہندوستان کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کی حفاظت کے لئے سر انجام دیئے۔اور کانگریس کے ہندو لیڈروں کی زبر دست مخالفت اور مزاحمت کے باوجود مسلمانوں کو ایک بلند مقام پر لاکھڑا کیا۔جہاں سے وہ اپنی منزل مقصود کو بخوبی دیکھ سکتے تھے اسی طرح حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مظلوم اہالیان کشمیر کے لئے جو میر العقول جد و جہد کی اس کا بھی مفصل ذکر اس کتاب میں آ رہا ہے۔نہایت عاجزانہ دعاؤں کے ساتھ ہم پوری کوشش میں تھے کہ وہ دن جلد آئے کہ یہ کتاب مکمل ہو اور مجلد کر کے سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت بابرکت میں پیش کی جائے۔لیکن اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ے نومبر ۱۹۶۵ء کی شام کو مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد نے کتاب کا مسودہ مکمل کیا اور کتاب میں لگائی جانے والی تصاویر کے متعلق لاہور سے یہ اطلاع ملی کہ وہ تیار ہو چکی ہیں۔اس طرح کتاب کا بیشتر حصہ چھپ چکا تھا۔لیکن چند ساعات کے بعد دل ہلانے والی اطلاع می۔کہ حضور رضی اللہ عنہ انتقال فرما گئے ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔اور ہماری آرزوئیں اور تمنائیں دل میں ہی رہ گئیں چونکہ مضمون سے نومبر تک مکمل ہو چکا تھا اس لئے ہم نے ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے الفاظ جو حضور کے نام کے ساتھ لکھے جارہے تھے اسی طرح رہنے دیئے گئے۔اور بدل کر رضی اللہ عنہ کے الفاظ نہیں کئے گئے۔تاریخ احمدیت کے لکھے جانے کا پروگرام حضور نے ہی تجویز کیا تھا۔اور مکرم مولوی دوست محمد صاحب شاہد کو اس غرض کے لئے حضور نے ہی مقر فر مایا تھا۔اور قصر خلافت میں بلا کر یہ عظیم ذمہ داری مجھے ا موجوده جلد چهارم موجود و جند با دیدم