تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 670
تاریخ 642 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مسلم کانفرنس میں تشتت و افتراق مسلمانان کشمیر کی قومی زندگی کے لئے سخت مسلک تھا اور ہر مخلص مسلمان کی دلی تمنا تھی کہ کشمیری مسلمانوں کی صفوں میں بیجہتی قائم رہے تاکہ تحریک آزادی کشمیر کی منزل اور زیادہ قریب ہو جائے۔چنانچہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب نے بھی شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو ایک مکتوب لکھا کہ ”مجھے یقین ہے کہ بزرگان، کشمیر بہت جلد اپنے معاملات سلجھا سکیں گے اس بات کے لئے میں ہر لخط وست بدعا ہوں۔۔۔اور یقین رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے آپ کی مساعی کو بار آور کر دیگا لیکن جو مختلف جماعتیں سنا ہے کہ بن گئی ہیں اور ان کا باہمی اختلاف آپ کے مقاصد کی تکمیل میں بہت بڑی رکاوٹ ہو گا ہم آہنگی ہی ایک ایسی چیز ہے جو تمام سیاسی و تمدنی مشکلات کا علاج ہے ہندی مسلمان کے کام اب تک محض اس وجہ سے بگڑے رہے کہ یہ قوم ہم آہنگ نہ ہو سکی۔اور اس کے افراد اور بالخصوص علماء اوروں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بنے رہے بلکہ اس وقت ہیں " - 1 بے شبہ یہ نهایت قیمتی نصیحت تھی مگر خود کشمیر کمیٹی کے بعض مقتدر اور معزز ممبر بالکل نظرانداز کر گئے اور خدا کے فضل و کرم سے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی حیرت انگیز قیادت و صدارت کی بدولت ایک نہایت قلیل عرصہ کی جنگ کے بعد (جو قوموں کی زندگی میں ایک سانس کی بھی حیثیت نہیں رکھتا) نہ صرف ریاست بلکہ ایک طرح سے حکومت انگریزی نے بھی ہتھیار ڈال دیئے تھے اور کشمیر کا صدیوں کا غلام آنکھیں کھولکر آزادی کی ہوا کھانے لگا تھا اور قانوناً ابتدائی حقوق حاصل کرنے کے بعد ان سے عملاً استفادہ کرنے کی دوسری مہم کا آغاز ہو چکا تھا کہ عین اس وقت نیم سرکاری اخبار ” سول اینڈ ملٹری گزٹ " (۴/ مئی ۱۹۳۳ء) میں یہ بیان شائع ہوا۔کہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے بعض ارکان نے ایک درخواست بھیجی ہے کہ آئندہ کشمیر کمیٹی کا صدر غیر قادیانی ہوا کرے۔اس اخباری بیان کے علاوہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب خان بهادر رحیم بخش صاحب، سید محسن شاہ صاحب وغیرہ لاہور کے گیارہ ارکان کے دستخطوں سے صدر آل انڈیا کشمیر کمیٹی (حضرت خلیفتہ المسیح الثانی) کی خدمت میں ایک مکتوب پہنچا جس میں لکھا تھا ہماری رائے میں پندرہ دن کے اندر اندر کمیٹی کا اجلاس عہدہ داران کے انتخاب کے لئے نہایت ضروری ہے اس کے چند روز بعد ۴ / مئی ۱۹۳۳ء دستخط کنندگان میں سے دو اصحاب کی طرف سے (جن میں پروفیسر سید عبد القادر صاحب بھی شامل تھے۔) جناب عبدالرشید صاحب قسم (اسٹنٹ ایڈیٹر اخبار سیاست لاہور) کے ذریعہ سے یہ پیغام ملا کہ انفرادی طور پر کشمیر کمیٹی کے کسی رکن کو اس کمیٹی کی تنظیم کے متعلق کوئی شکایت نہیں اوروں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہم دونوں کا یقین ہی نہیں بلکہ ایمان ہے کہ اگر حضرت صاحب کے علاوہ کوئی اور صدر ہو تا تو کبھی یہ ہم سر نہ ہو سکتی اس تحریک میں احمد یہ جماعت نے جو قربانیاں کی ہیں)