تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 616
تاریخ احمدیت جلد ۵ 604 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ قیمتی آزادی ہے۔ورنہ ذلت کے ساتھ قید سے رہائی کوئی آزادی نہیں۔اس سے تو مرجانا بہتر ہے۔والسلام خاکسار مرزا محمود احمد امام جماعت احمدیہ ۱۸ جون ۱۹۳۳ء اعوذ بالله من الشيطن الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر برادران جموں و کشمیر کے نام میرا دو سراخط بسلسلہ چہارم برادران! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ: میرا پہلا خط آپ کو مل چکا ہے۔اور جوابات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام علاقہ پر اس نے ایک مفید اور نیک اثر پیدا کیا ہے۔آج میں دو سراخط آپ کی طرف لکھ رہا ہوں۔اور امید کرتا ہوں کہ گزشتہ کی طرح آپ اس خط کے مضمون کو بھی غور سے پڑھیں گے۔اور اس پر پوری طرح عمل کرنے کی کوشش کریں گے۔میں آپ سے یہ بھی درخواست کرتا ہوں۔کہ چونکہ ہر شخص تک یہ خطوط نہیں پہنچائے جاسکتے۔جس کو یہ خط ملے وہ دوسرے پڑھے لکھے ہوئے لوگوں کو یہ خط پڑھا دے۔اور ان پڑھوں کو بنا دے۔اور جو دور میں ان تک پہنچا دے۔حتی که هر باشنده ریاست جموں و کشمیر کو یہ خط مل جائے۔یا اس کے مضمون سے وہ واقف ہو جائے۔میرا کام۔سب سے پہلے میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ گزشتہ ایام میں میرے سامنے یہ کام رہے ہیں۔اول- شیخ محمد عبد اللہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کو جو نہایت ظالمانہ طور پر گرم جگہ پر قید کیا گیا تھا۔اس کے خلاف کوشش اور ان کو کسی ٹھنڈے مقام پر تبدیل کروانا۔دوم۔ان کی اور ان کے ساتھیوں کی آزادی کے لئے کوشش۔سوم- گزشتہ دو ماہ سے جو افسران کشمیر کے عام رویہ میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔اور وہی پر انا استبداد نظر آ رہا ہے اس کے خلاف کوشش۔میں نے ان تین مقصدوں کے پورا کرنے کے لئے مندرجہ ذیل ذریعے اختیار کئے۔اول میں نے سوچا کہ جب تک پبلک میں بیداری پیدا نہ کی جائے۔اور ان کی محبت کو اپنے لیڈروں سے قائم نہ رکھا