تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 568 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 568

تاریخ احمدیت جلد ۵ 556 تحریک آزادی کشمیر ا در جماعت احمد به طاقت میں جو کچھ بھی ہے اس سے دریغ نہیں کریں گے اور اگر آپ کو تکالیف سے بچانے کے لئے سو سال بھی کوشش کرنی پڑے تو انشاء اللہ وفاداری اور نیک نیتی سے اس کو جاری رکھیں گے لیکن اللہ تعالی کے فضل سے ہم امید کرتے ہیں کہ صورت حالات جلد بہتر ہو جائے گی۔کیونکہ ایسے سامان پیدا ہو رہے ہیں۔اور خداتعالی زبر دست دوست ہمیں عنایت کر رہا ہے۔برادران! اس موقعہ پر آپ کو ایک نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ظلم کی شدت کے وقت انسان آپے سے باہر ہو جاتا ہے۔لیکن کامیابی کاگر صبر ہے۔صبر انسان کی طاقت کو بڑھا دیتا ہے۔اس کی قابلیت کو ترقی دیتا ہے۔خدا تعالی رسول کریم ﷺ کو پہلے دن ہی فتح بخش سکتا تھا۔لیکن اس نے تیرہ ! سال آپ کو اہل مکہ کے ظلموں تلے اسی وجہ سے رکھا کہ وہ چاہتا تھا کہ مسلمانوں میں حکومت کرنے کی قابلیت پیدا ہو جائے اس میں شک نہیں کہ آپ مدتوں سے مظلوم ہیں لیکن حق یہ ہے کہ پہلے آپ کے دل میں آزادی کا خیال ہی پیدا نہ تھا۔اس لئے اس وقت آپ کی خاموشی صبر نہ تھی بلکہ کمزوری تھی۔مبرای حالت کا نام ہے کہ انسان کا دل مقابلہ کو چاہے لیکن پھر وہ اپنے آپ کو کسی اصول کے ماتحت روک لے یہ حالت انسان کی اعلیٰ درجہ کی تربیت کرتی ہے۔اور اس میں بڑی قابلیتیں پیدا کر دیتی ہے اور اس کا موقعہ آپ کو ابھی ملا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ کس قدر ظلم ہو۔آپ لوگ اس کا جواب تشدد سے نہ دیں بلکہ مبر اور قربانی سے دیں اور اس وقت کو تنظیم اور ایثار اور قربانی سے خرچ کریں۔تب اللہ تعالیٰ کا فضل آسمان سے بھی نازل ہو گا۔یعنی اس کی براہ راست مدد بھی آپ کو حاصل ہوگی۔اور زمین سے بھی ظاہر ہو گا۔یعنی اس کے بندوں کے دل بھی آپ کی مدد اور ہمدردی کے جذبات سے لبریز ہو جائیں گے۔دوسری بات میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ آپ لوگ قطعی طور پر صلح سے انکار کر دیں جب تک کہ آپ کے گرفتار شدہ لیڈر رہا نہ ہو جائیں۔یہ مصلحت کے بھی خلاف ہو گا اور غداری بھی ہوگی۔کہ آپ کے لئے قربانی کرنے والے جیل خانہ میں ہوں اور آپ ان سے بالا بالا صلح کرلیں۔جس وقت تک ایک نمائندہ بھی قید میں ہو اس وقت تک صلح کی گفتگو نہیں ہونی چاہئے۔جب سب آزاد ہو جا ئیں پھر سب مل کر اور مشورہ سے اور اتحاد سے اپنی قوم کی ضرورتوں کو مہاراجہ صاحب کے سامنے پیش کریں۔تو میں امید کرتا ہوں کہ مہاراجہ صاحب جن پر میں اب تک بھی حسن ظن رکھتا ہوں۔آپ لوگوں کی تکلیفوں کو دور کریں گے۔اور آپ لوگوں کو موقع مل جائے گا کہ اپنے پیارے ملک کی ترقی کے لئے دل کی خواہش کے مطابق کام کر سکیں۔آخر میں میں پھر سب مسلمانوں کی ہمدردی کا یقین دلاتے ہوئے اس بات کا وعدہ کرتا ہوں کہ