تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 561
تاریخ احمدیت جلد ۵ 549 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ دن چھ گھنٹے کی بحث کے نتیجہ میں دونوں جج صاحبان نے اس بات پر اتفاق کیا۔کہ چار ملزموں کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا۔دوسرے دن کی بحث کے اختتام پر مزید چار کے متعلق اس رائے کا اظہار کیا۔اب صرف چار ملزم باقی رہ گئے تھے۔اور بحث کا آخری دن تھا۔عدالت کو مقررہ وقت سے ایک گھنٹہ زائد وقت دینا پڑا۔حج صاحبان نے میر صاحب کی قابلیت کی بہت تعریف کی اور شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے جس محنت اور دیانتداری سے اس کیس کی پیروی کی اس سے ان کو بھی بہت فائدہ پہنچا ہے۔اور عدل و انصاف کرنے میں ان کو مددملی ہے۔فیصلہ محفوظ رکھا گیا۔خیال تھا کہ تمام ملزم بری کر دیئے جائیں گے کئی دن گزر گئے۔فیصلہ نہ سنایا گیا۔ایک روز میر صاحب مسلم حج کے پاس گئے۔اور دیر کی وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ دونوں ججوں میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ تیرہ ملزم بے گناہ ہیں ان کو بری کر دیا جائے۔باقی چار کے متعلق اس حصہ میں اتفاق ہے کہ قتل وغیرہ کے الزام ثابت نہیں۔لیکن ہندو حج کو اس بات پر اصرار ہے کہ اگر ہم نے سب کو بری کر دیا۔تو ریاست کی بدنامی ہو گی۔دنیا کہے گی کہ جھوٹے مقدمات کھڑے کئے گئے تھے۔اور ریاست کالاکھوں روپیہ خرچ ہو گیا ہے۔آخر فیصلہ سنادیا گیا تیره ملزم بالکل بری اور چار کو بلوہ کرنے کے جرم میں چھ چھ ماہ قید کی سزا ہوئی اور اس طرح چار ہندوؤں کو بھی اس جرم میں چھ چھ ماہ کی قید کی سزا سنادی گئی۔جن کی سزا ہوئی ان کی طرف سے ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی گئی۔چوہدری اسد اللہ خان صاحب بیرسٹر نے ہائی کورٹ میں پیروی کی جہاں ایسی صورت پیدا ہو گئی کہ فریقین کو رہا کر دیا گیا اور اس طرح اس بہت بڑے مقدمے کا انجام بخیر ہوا۔اور ریاست بھر میں کشمیر کمیٹی کے لئے تشکر و امتنان کی لہر دوڑ گئی"۔میر صاحب جموں میں کام کر رہے تھے۔کہ گوجرانوالہ سے بچہ کی تشویشناک بیماری کا تار آیا مگر آپ نے مسلمانوں کے دفاع کو ترجیح دی اور گھر والوں کو لکھا کہ میرا جموں سے مقدمہ سے فارغ ہو کر آنا مشکل ہے میں ڈاکٹر بھی نہیں کہ اس کی مدد کر سکوں۔ہاں دعا کر سکتا ہوں اور وہ جموں بیٹھے ہوئے بھی کرتا رہوں گا۔ادھر میر صاحب نے یہ جواب دیا ادھر حسن اتفاق سے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کشمیر سے گوجرانوالہ تشریف لائے تو انہیں بچے کی بیماری کا علم ہوا۔تو آپ نے فورا خاطر خواہ طبی انتظام کر دیا۔اور تھوڑے دنوں کے بعد بیماری سے افاقہ ہونا شروع ہو گیا۔آپ ۱۹ مئی ۱۹۳۲ء کو چھ ماہ مسلسل جموں میں قانونی امداد کا فریضہ انجام دینے کے بعد نوشہرہ روانہ ہوئے تو مسلم بینگ میز ایسوسی ایشن جموں نے نہ صرف اپنے خصوصی اجلاس میں آپ کا شکریہ ادا کیا۔بلکہ اس کے جنرل سیکرٹری نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں لکھا۔