تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 560
تاریخ احمدیت۔جلده 548 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ مقدمات چل رہے تھے۔اور قریبا سب سنگین نوعیت کے تھے۔قتل ، آتش زنی ڈاکہ اور بلوہ وغیرہ ہر قسم کے مقدمات تھے۔اور پولیس اور ہندوؤں نے محض سر بر آوردہ ہونے کی وجہ سے علاقہ کے معزز ترین مسلمانوں کو جھوٹے مقدمات میں جکڑ دیا تھا۔قاضی صاحب نے نہایت محنت اور قابلیت سے پیروی کی اور الا ماشاء اللہ سب مقدمات کے نتائج مسلمانوں کے حق میں بر آمد ہوئے۔آپ کی خدمات کا لسلہ مئی ۱۹۳۲ء سے دسمبر ۱۹۳۲ء تک جاری رہا۔میر محمد بخش صاحب ایڈووکیٹ میر محمد بخش صاحب نے جموں کو ٹلی اور نوشہرہ میں پیروی مقدمات کی۔آپ جموں میں تشریف لے گئے تو اس وقت تک ریاست کی طرف سے بیرونی پلیڈرز کو وکالت کی اجازت نہ تھی۔اس لئے عدالت میں یہ سوال پیدا ہو گیا کہ میر صاحب پلیڈر ہیں اس لئے بطور وکیل پیش نہیں ہو سکتے۔اس پر آپ نے ساری رات ریاستی قوانین کا مطالعہ کیا۔اور اس نکتہ تک پہنچے کہ ریاستی قانون کے ماتحت کسی ملزم کا مختار خاص مقدمہ کی پیروی کر سکتا ہے۔چنانچہ میر صاحب نے جیل سے تمام ملزمان کے خاص مختار نا مے حاصل کر کے عدالت میں پیش کر دیئے۔عدالت نے اعتراض کیا کہ جب غیر ریاستی پلیڈر پیش نہیں ہو سکتا تو غیر ریاستی مختار خاص کس طرح پیش ہو سکتا ہے؟ میر صاحب کا موقف یہ تھا کہ مختار صاحب کے لئے یہ شرط ریاستی قانون میں نہیں رکھی گئی۔عدالت جموں کوئی فیصلہ نہ کر سکی۔ہائیکورٹ سے استصواب کیا گیا۔ہائی کورٹ نے میر صاحب کے نقطہ نظر کی تائید کی اور اس طرح یہ قانونی روک بھی ہمیشہ کے لئے دور ہو گئی۔BA ۱۵۹ جموں میں مشہور مقدمہ سرکار بنام غلام چل رہا تھا۔جس میں بارہ مسلمان قتل اور ڈاکہ کے الزام میں ماخوذ تھے میر صاحب نے خدا کے فضل سے اس قابلیت سے کیس پیش کیا۔کہ تمام مسلمان بری کر دیئے گئے۔محترم میر محمد بخش صاحب نے اپنے آپ کو دوماہ کے لئے وقف کیا تھا یہ عرصہ گزارنے پر انہوں نے صدر محترم کشمیر کمیٹی سے واپس جانے کی اجازت چاہی۔اس کا علم ملزمین کو بھی ہو گیا۔انہوں نے بھی جناب صدر کو بذریعہ تار گزارش کی کہ میر صاحب کو تا اختتام مقدمہ جموں ہی میں رہنے کا حکم دیا جائے۔یہ درخواست منظور کرلی گئی اور میر صاحب نے پورے چھ ماہ وہاں گزارے اور نہایت قابلیت سے یہ کام ختم کیا۔جموں کے مشہور مقدمہ میں سترہ ملزم تھے۔جن پر قتل ، ڈاکہ آتش زنی اور بلوہ وغیرہ کے مقدمات تھے۔چھ ماہ بعد جب ساری کارروائی ختم ہوئی۔تو میر محمد بخش صاحب نے بڑی قابلیت سے بحث کی۔پہلے