تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 523
تاریخ احمدیت جلده 511 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ بہت شکریہ ادا کیا۔چنانچہ شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ صاحب نے تحریر فرمایا کہ "میری رائے ہے کہ قابل مصنف نے بہت محنت سے کام کیا ہے۔اور کشمیر کے مسلمانوں کی نسبت درد دل رکھنے والے تمام حضرات کو چاہئے کہ وہ اس رسالہ کا ضرور مطالعہ کریں۔مسلمانان ریاست کو بھی چاہئے کہ گھر گھر میں اس کتاب کو منگوا ئیں اور اپنے اصل حالات اور دشمنوں کی چالوں سے واقف رہیں اور اگر وہ آئندہ دنیا میں ایک باد قار قوم کی مانند رہنا چاہتے ہیں"۔مولوی سید میرک شاہ صاحب فاضل دیوبند و پروفیسر اورنٹیل کالج لاہور نے لکھا۔اس کتاب کی ممتاز ترین خوبی یہ ہے کہ غیر جانبدار شاہدوں کی شہادت اور صحیح اعداد و شمار نیز واقعات کی روشنی میں مسلمانان کشمیر یا بالفاظ دیگر رعایائے کشمیر کی وہ تباہی و بربادی دکھادی گئی ہے جو ڈوگرہ حکومت کے عہد میں کشمیریوں کو پیش آئی۔اس موضوع پر روشنی ڈالنے کے لئے میرے خیال میں اب تک کوئی کتاب اس سے بہتر نہیں لکھی گئی"۔جناب اللہ رکھا صاحب ساغر لیڈ ر جموں نے تحریر فرمایا۔”میرے خیال میں رسالہ سلیقہ سے مرتب ہوا ہے مصنف کی عرقریزی قابل داد ہے"۔شیخ غلام قادر صاحب جنرل سیکرٹری ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن جموں نے یہ رائے دی۔” یہ اپنی نوعیت کا سب سے پہلا رسالہ ہے اس کے مصنف نے مہاسبھائی ہندوؤں کی خفیہ سازشوں کا تمام تار و پود کھول کر رکھ دیا ہے۔جو مسلمانان کشمیر کو ایک مدت دراز سے سختی کے ساتھ کچل رہا تھا حوالہ جات سے ہندوؤں کی سازشوں کے اثبات میں جو محنت مصنف نے کی ہے قابل داد ہے ریاست کے محکمانہ گوشوارے جن میں ملازمتوں کا تناسب دکھایا گیا ہے۔اور وہ مثالیں جن سے حکام کے کورانہ تعصبات کا نمونہ پیش کیا گیا ہے۔سراسر حقیقت پر مبنی ہیں "۔سید ولایت شاه صاحب مفتی تحصیل راجوری نے ان الفاظ میں تبصرہ کیا کہ ”میرے خیال میں یہ کتاب واقعات کشمیر کے لحاظ سے مشاہدات مینی کا مین ترجمہ ہے۔اور مصنف صاحب نے جس خلوص سے محنت کر کے یہ کتاب لکھی ہے نہ دل سے اہل خطہ کیا جملہ مومنین کو مشکور ہونا عین انصاف ہے “۔ملک فضل حسین صاحب نے مسلمانان کشمیر کے ڈوگرہ راج کے بعد ستمبر ۱۹۳۲ء میں "مسئلہ کشمیر اور ہندو مہا سبھائی" کے نام سے دوسری کتاب شائع کی جس میں تحریک حریت کشمیر کے خلاف مہا سبھائی پراپیگنڈا کی خوب قلعی کھولی اور ثابت کر دکھایا کہ ویدوں میں تبدیلی مذہب پر ضبطی جائیداد کا کوئی قانون موجود نہیں ، باقی رہی منو سمرتی تو اس کے قانون وقتی ہیں اور خود ہندوؤں نے بلکہ ریاست