تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 522 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 522

تاریخ احمدیت - جلد ۵ 510 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کے لئے کم از کم چار صد روپیہ کی ضرورت ہے۔لیکن کوئی توجہ نہیں فرمائی گئی جس قدر ممکن ہو سکے روپیہ ارسال فرما ئیں۔مڈلٹن کمیشن کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور محمد اسحاق صاحب خوب محنت سے کام کر رہے ہیں۔کرسمس میں تمام کام ختم کر لیا جائے گا۔بشر طیکہ یہ تمام احباب یہاں پر رہیں اس لئے جناب میر صاحب وغیرہ کو کرسمس میں نہیں رہنے کے لئے حکم دیں تاکہ تمام بیانات مکمل کر لئے جائیں۔اگر کام ہلکا ہو گیا تو ایک دن کے لئے جلسہ پر چلے جائیں گے۔گلانسی کمیشن کے لئے تاحال کوئی مواد فراہم نہیں ہوا۔وہ تمام بیانات کشمیر طلب کر رہے ہیں۔اس لئے آج ان کو لکھ دیا ہے کہ بیانات ان کے آنے پر یہاں پیش کئے جائیں گے کیونکہ ہندو شمارتوں کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔مسٹر عبد اللہ کا تار سرینگر سے آیا تھا۔جو نوٹ وزیر آباد سے تیار کئے گئے تھے ان کے متعلق ریزولیوشن پاس ہو چکے ہیں۔اب صرف گائے کشی کے سزا کی تخفیف پر بحث شروع ہے۔۔۔شاب الدین کو سپوکس مین مقرر کیا ہے۔۔۔۔دعا کریں اللہ تعالیٰ ایسے نازک وقت میں ہماری امداد فرمائے۔۔۔۔۔چوہدری عزیز احمد صاحب کو میر پور بھیجا ہوا ہے جناب کے پاس ایک اور وکیل نے یہاں آنے کی درخواست کی ہوئی ہے مہربانی کر کے انہیں فور اردا نہ فرما ئیں۔تاکہ عزیز احمد صاحب کو مڈلٹن کمیشن کی تیاری کے لئے واپس بلایا جا سکے۔کیونکہ وہ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اس وقت ضرورت صرف ایک ایسے قابل اور محنتی کارکن کی ہے جو کمیشن کے کام سے اچھی واقفیت رکھتا ہو۔کیونکہ ہم سب بالکل ناواقف ہیں۔اور گلانسی کمیشن کی تیاری میں سخت پیچیدگیاں پیدا ہو رہی ہیں۔یہ امر جناب کی فوری توجہ کا محتاج ہے۔روپیہ کی اشد ضرورت ہے۔آخر میں یہ عرض ہے کہ ہم سب جناب کی دعا کے بھی محتاج ہیں۔ہماری کامیابی کے لئے ہر وقت دعا فرمایا کریں۔درد صاحب ابھی تک یہاں نہیں پہنچے کیا کشمیر چلے گئے ہیں۔احباب آپ سے آداب کرتے ہیں۔خاکسار گوہر رحمان جموں ( نقل مطابق اصل) ان کمیشنوں میں تصنیفی لحاظ سے جس چیز نے ملک فضل حسین صاحب کی دو تصانیف بہت مددکی وہ ملک فضل حسین صاحب کی تالیف "مسلمانان کشمیر اور ڈوگرہ راج" تھی۔جو ۳۰ دسمبر ۱۹۳۱ء کو شائع ہوئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے ذاتی طور پر ڈیڑھ سونے اس کے خرید فرمائے اور حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کو مظفر آباد روانہ فرمایا تادہ سر بر آوردہ مسلمانوں میں اسے مفت تقسیم کر دیں چنانچہ آپ نے ایسا ہی کیا۔اس کتاب کے کئی ابواب کا انگریزی ترجمہ شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی خواہش پر گلینسی کمیشن کے سامنے رکھا گیا۔اس کتاب نے مسلمانان کشمیر کے مطالبات کی معقولیت واضح کر دی اور زعمائے کشمیر نے اس کا