تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 517
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 505 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ سرینگر جموں پونچھے اور میرپور میں باقاعدہ دفاتر کھول دیئے سرینگر میں شیخ بشیر احمد صاحب بی اے۔ایل ایل بی ایڈووکیٹ، چوہدری عصمت اللہ صاحب بی ایس سی۔ایل ایل بی مولوی عبد الرحیم صاحب درد ایم۔اے ، صوفی عبد القدیر صاحب نیاز بی۔اے مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی مولوی سید میرک شاہ صاحب اور چوہدری ظہور احمد صاحب کو دن رات کام کرنا پڑا۔جس کا چرچا پنجاب کے مسلم پریس میں بھی ہوا۔چنانچہ اخبار "انقلاب" نے لکھا۔کشمیر میں اس وقت دو کمیشن مصروف کار ہیں۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی خدمات آئینی جدوجہد میں ایسی عظیم الشان ہیں کہ کوئی دوسری جماعت اس لحاظ سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اسی اخبار نے ایک اور اشاعت میں لکھا۔" حقیقت یہ ہے کہ تحریک کشمیر کے سلسلے میں جو تعمیری کام اس کمیٹی نے انتہائی خلوص اور خاموشی سے انجام دیا ہے۔اس کے شکریہ سے مسلمان کبھی عہدہ بر آنہیں ہو سکتے بحالت موجودہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی نے ایک مشہور عالم دو وکیل ایک گریجوایٹ اور ایک کلرک کو سرینگر میں اس کام پر مامور کر رکھا ہے کہ تحقیقاتی کمیشنوں کے سامنے مسلمانوں کا کیس تیار کریں اور ان کمیشنوں کی کارروائی پر نگرانی رکھیں ایک وکیل جموں میں مصروف کار ہے ایک میر پور بھیجا جا رہا ہے۔دو اچھے وکیل گلانسی کمیشن کے ساتھ کام کرنے کے لئے بھیجے جارہے ہیں۔لیکن ان کا سفر خرچ اور مصارف قیام پر بھی کافی روپیہ خرچ ہو رہا ہے "۔"1 لٹن کمیشن " کے سلسلہ میں شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ کی خدمات سے متاثر ہو کر شیر کشمیر شیخ محمد عبد اللہ صاحب نے ۲۱ / دسمبر ۱۹۳۱ء کو سرینگر سے "الفضل" کے نام مندرجہ ذیل پیغام بھیجا۔شوپیاں کا مقدمہ قتل گزشتہ ہفتہ سے شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور نہایت قابلیت کے ساتھ چلا رہے ہیں۔اللہ تعالی کا شکر ہے کہ ایک ملزم رہا کر دیا گیا ہے۔شیخ بشیر احمد صاحب نے ہمارے مفاد کی خاطر جو قربانی کی ہے اس کے ہم بے حد ممنون ہیں آپ نے مڈلٹن تحقیقاتی کمیٹی کے سلسلہ میں بھی ہمیں قابل قدر امداد دی ہے ہم آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے ایسا قابل قانون دان ہماری امداد کے لئے بھیجا "۔شیخ صاحب کے دوش بدوش مولوی عبد الرحیم صاحب درد کی جد وجہد بھی قابل تعریف تھی اور ان کا وجود اہل کشمیر کے لئے بہت غنیمت تھا۔چنانچہ چوہدری ظہور احمد صاحب کا بیان ہے کہ گلینسی نے جس وقت کام شروع کیا مولانا عبد الرحیم صاحب درد سرینگر ہی میں تھے۔ان کا دستور یہ تھا کہ روزانہ شام کو مسلم نمائندوں سے سارے دن کی کارروائی کے حالات سنتے مشورے دیتے جاتے شہادتیں اور مواد مہیا کرنے کا کام بہت اہمیت رکھتا تھا۔یہ کام پوری ذمہ داری سے شیخ بشیر احمد صاحب