تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 477
تاریخ احمدیت جلد ۵ 465 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ کہ وہ تمہاری ممبری منسوخ کر دیں۔چنانچہ اس نے وعدہ کیا کہ وہ کشمیر کے بارہ میں پرو پیگنڈا نہیں کرے گا۔(الفضل ۱۴/ نومبر ۱۹۵۴ء صفحه ۴) کشمیر کمیٹی کے جلسہ پر سنگباری اینفت روزه اسلات ولی کا دار به مورخ ۲۸/ اکتوبر " اداریہ ۱۹۳۱ء - سید شفیع احمد صاحب دہلوی کے قلم سے) یہ سن کر ہماری حیرت کی کوئی حد نہیں رہی کہ سیالکوٹ میں ۱۳/ ستمبر کو ساڑھے نو بجے شب کو کشمیر کمیٹی کے جلسہ میں جبکہ جناب صدر کشمیر کمیٹی کے تقریر کرنے کا وقت مقرر تھا اور جلسہ گاہ قلعہ کے وسیع میدان میں ہو رہا تھا تو لوگ آٹھ بجے سے ہی جوق در جوق وہاں جمع ہونے لگے جب تجویز حاضرین جلسہ حکیم عبدالحکیم صاحب جو سیالکوٹ کے با اثر شرفاء میں شمار کئے جاتے ہیں اور احمدی عقیدے کے آدمی نہیں ہیں صدر جلسہ قرار دیئے گئے اور اسٹیج پر تشریف لا کر صدارتی تقریر کرنے لگے تو اشرار کے ایک گروہ نے جو فتنہ و فساد کی غرض سے جلسہ گاہ میں بھیجا گیا تھا۔سخت شور بپا کر دیا۔یہ دیکھ کر صاحب صدر نے ایک مقامی حافظ صاحب کو قرآن کریم کی تلاوت کے لئے کھڑا کیا تا یہ تحفظ اسلام کے مدعیان خاموش ہو جاویں۔لیکن ان لوگوں کو خدا اور رسول ا سے تعلق ہی کیا تھا انہیں تو اپنے آقایان ولی نعمت کے احکام کی تعمیل کرنی تھی۔عدوان اسلام و المسلمین کے پٹھو جن کا مقصد ہی تحریک کو نقصان پہنچا کر اپنے آقاؤں کا حق نمک ادا کرتا ہے۔اس عظیم الشان جلسے میں ابتری پیدا کرنا چاہتے تھے۔چنانچہ انہوں نے شور و شر کر کے ہاد ہو کے نعرے بلند کرتے ہوئے ایک دوسرے کو دھکیل کر بیٹھے ہوئے پر امن حاضرین پر پتھر پھینکنا شروع کر دیا تاکہ لوگ منتشر ہو جائیں۔یہ دیکھ کر پولیس نے ان لوگوں کو اسن کے ساتھ مجمع سے چند فٹ پیچھے ہٹا دیا جہاں کھڑے ہو کر انہوں نے بیہودہ بکو اس کے ساتھ ساتھ جلسہ پر سنگ باری بھی شروع کر دی۔صدر صاحب کشمیر کمیٹی بھی جلسہ گاہ میں تشریف لائے تھے۔فتنہ پردازوں اور لفنگوں کی ٹولی کی شرارتیں اور خلاف انسانیت و شرافت حرکات دیکھ کر منتظمین جلسہ نے صدر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ چونکہ سخت خطرہ کی حالت پیدا ہو گئی ہے اور نقصان کا احتمال ہے اس لئے آپ تشریف نہ لائیں لیکن جناب صدر نے اس خطرہ کی ذرہ بھر بھی پروانہ کی اور فور انتھروں کی اس شدید بارش کے دوران میں ہی اسٹیج پر تشریف لے آئے۔چونکہ مفسد اور فتنہ پرداز ٹولی یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنی شرمناک حرکات سے جلسہ کو درہم برہم کرنے میں کامیاب ہو جائے گی اور فتنہ و فساد کے نہ صرف اسباب جو اس نے پیدا کر رکھے ہیں بلکہ اپنی طرف سے فساد شروع بھی کر رکھا ہے اس سے وہ