تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 23
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 23 خلافت ثانیہ کا پندرھواں سال طرح شروع شروع میں متعدد وقتوں اور دشواریوں سے دو چار ہونا پڑا۔طلباء جامعہ احمدیہ کی عمارت بھی ناقص تھی۔اور اس کا علیحدہ ہوسٹل نہ ہونے کی وجہ سے اس کے بعض طلباء مدرسہ احمدیہ کے بورڈنگ میں رہتے تھے اور بعض ہائی سکول کے بورڈنگ میں اور بعض نے اپنے قیام کا پرائیویٹ انتظام کر رکھا تھا۔|YA جامعہ احمدیہ کے ابتدائی کو الف اس کے اساتذہ اور افتتاح کا عمومی تذکرہ کرنے کے بعد اب ہم اس درسگاہ کے بعض دوسرے حالات پر روشنی ڈالتے ہیں۔۱۹۲۹ء میں جامعہ احمدیہ کا پنجاب یونیورسٹی سے الحاق ہوا۔۱۹۳۰ء میں جامعہ کے طلباء کی ورزش کے لئے گراؤنڈ کا انتظام ہوا۔اپریل ۱۹۳۰ء میں ایک سہ ماہی رسالہ ”جامعہ احمدیہ " جاری ہوا۔جامعہ احمدیہ کے پاس اپنی کوئی لائبریری نہ تھی اور طلباء کو مرکزی لائبریری میں جو اندرون شہر واقع تھی۔جانا پڑتا تھا۔۳۱-۱۹۳۰ء میں بعض کتب منگوانے کا انتظام شروع ہوا۔چنانچہ ۱۹۴۷ء تک جامعہ احمدیہ کی ایک اچھی خاصی لائبریری تیار ہو گئی تھی۔۱۹۳۲ء میں قادیان علوم شرقیہ کے امتحان کا سنٹر منظور ہوا۔اسی سال جامعہ کے اندرونی انتظام کو با قاعدہ بنانے کے لئے اس کے سٹاف کی ایک کو نسل بنائی گئی جس کے صدر حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب اور سیکرٹری حضرت مولانا میر محمد اسحاق صاحب مقرر ہوئے اور چہار شنبہ کو ہفتہ وار اجلاس منعقد ہونا قرار پایا۔نومبر ۱۹۳۲ء میں جامعہ احمدیہ کے ایک وفد نے جو انتیس افراد پر مشتمل تھا مولوی ارجمند خان صاحب کی قیادت میں ہندوستان کے متعدد شہروں کا ایک کامیاب تبلیغی و تفریحی دورہ کیا۔اسی زمانہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی کے ایک ارشاد کی روشنی میں یہ قاعدہ بنا دیا گیا کہ جامعہ احمدیہ میں صرف وہی طلباء داخل کئے جائیں گے جو مدرسہ احمدیہ کے فارغ التحصیل ہوں گے ان کے سوا کوئی طالب علم جامعہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔البتہ جہاں تک جامعہ احمدیہ کی مولوی فاضل کلاس کا تعلق ہے صدر انجمن احمدیہ کی خاص اجازت سے استثنائی طور پر مدرسہ احمدیہ کے فارغ التحصیل طلباء کے علاوہ دوسرے بھی داخل ہو سکیں گے۔مگر ضروری ہو گا کہ انجمن اپنے فیصلہ میں استثناء کی وجوہ بیان کر کے منظوری دے اور مبلغین کلاس میں بہر صورت کوئی دوسرا مطالب علم داخل نہیں ہو سکے گا۔اس قاعدے سے مولوی فاضل کا امتحان دینے والے دوسرے احمدی طلباء کو جامعہ میں داخلہ کی صورت میسر آگئی بلکہ کئی غیر احمدی طلباء بھی استفادہ کرتے رہے اور مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا۔