تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 449 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 449

تاریخ احمدیت جلده 437 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ صاحب درد ، شیخ یوسف علی صاحب بی۔اے پرائیویٹ سیکرٹری اور ڈاکٹر حشمت اللہ خان صاحب کو بھی رفاقت نصیب ہوئی۔گڑھی حبیب اللہ کے سفر میں جناب درد صاحب ساتھ نہیں تھے بلکہ آپ سرینگر گئے ہوئے تھے۔اس سفر میں خان یحیی خان صاحب ہیڈ کلرک دفتر پرائیوٹ سیکرٹری) میاں نذیر احمد صاحب بھاگلپوری ( موٹر ڈرائیور) اور خان میر خان صاحب ( پہریدار) کو خدمت کا موقع ملا۔برطانوی ہند کے احمدی اور تحریک آزادی جماعت احمدیہ اگر چہ مدتوں سے تحریک آزادی کشمیر میں دلچسپی لے رہی تھی لیکن آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی تشکیل کے بعد جبکہ کشمیر کمیٹی کی باگ ڈور حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے سنبھال لی پوری دنیا کے احمدی گویا آزادی کشمیر کی فوج کے سپاہی بن گئے۔قادیان جہاں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا اصل دفتر تھا ان دنوں تحریک آزادی کا اہم مرکز بن گیا۔اور اس کے کارکن جن میں ہر طبقہ کے احمدی شامل تھے۔میدان عمل میں آگئے۔قادیان کے علاوہ ہندوستان میں جہاں جہاں احمدی جماعتیں قائم تھیں سرگرم عمل ہو گئیں۔شدھی کے بعد ایسا جوش و خروش جماعت میں کبھی نہیں دیکھا گیا۔خدا کے فضل سے کمیٹی کے اخراجات کا اکثر حصہ جماعت احمدیہ نے برداشت کیا۔اور برطانوی ہند کی مسلمان جماعتوں میں سب سے زیادہ کارکن اندرون و بیرون ریاست کام کرنے والے جماعت احمدیہ نے فراہم کئے۔تحریک آزادی کشمیر کا خمیازہ جماعت احمدیہ کو اس رنگ میں بھگتنا پڑا کہ جہاں کانگریسی خیال کے بعض مسلمان لیڈروں نے سر سکندر حیات خاں کی کوٹھی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو احمدیت کے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی دھمکی دی۔وہاں ہندوستان کی انگریزی حکومت جو ریاست کشمیر کی نگران تھی۔احمدیوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔چنانچہ سید ولی اللہ شاہ صاحب کا بیان ہے کہ۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مجھے بذریعہ تار پالم پور بلوایا اور فرمایا۔خان صاحب مولوی فرزند علی صاحب شملہ میں ہیں آپ وہاں جائیں اور فارن سیکرٹری مسٹر کلینسی سے ملیں خان صاحب کو میں نے ہدایت بھیج دی ہے آپ اپنے طریق پر ان سے بات کریں۔اور کہیں کہ کشمیر میں کام کرنے سے اب ہمیں روکا جا رہا ہے یہ درست پالیسی نہیں نیز جن حالات میں مجھے اور شیخ بشیر احمد صاحب کو وہاں سے نکالا گیا ہے وہ بھی پیش کروں چنانچہ میں ان اخبارات کے بہت سے تراشے لے گیا۔مسٹر کلینسی نے اثنائے گفتگو میں اپنا وہی مشورہ دہرایا۔اتفاق سے ان دنوں چار انگریز جاسوس روس میں گرفتار کئے گئے تھے۔اور ملاقات سے ایک دن پہلے میں نے اخبار میں پڑھا کہ برٹش گورنمنٹ نے روس کو بمبارڈ کرنے کی دھمکی دی ہے۔میں نے کہا چار انگریز جاسوس پکڑے جائیں اور برٹش