تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 448 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 448

تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 436 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ نئے تقرر کی نسبت بتایا کہ ” مولوی جلال الدین صاحب کو شام سے واپسی پر کشمیر کا کام سپرد کیا گیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی یہ بہت بڑی عنایت ہے کہ ہمارے کام کرنے والے لوگ کام سے تھکتے نہیں ایک شخص جو چھ سال کا لمبا عرصہ اپنے وطن سے دور سمندر پار رہا ہو وہ امید کر سکتا ہے کہ واپسی پر اسے اپنے رشتہ داروں کے پاس رہنے اور آرام کرنے کا موقعہ دیا جائے مگر یہ مردوں اور عورتوں کے لئے تعجب کی بات ہے کہ مولوی صاحب جب سے آئے ہیں کل (۹/ فروری ۱۹۳۱ء کو۔ناقل) صرف چند گھنٹوں کے لئے اپنے وطن گئے کیونکہ آتے ہی انہیں کام پر لگا دیا گیا"۔فروری ۱۹۳۳ء میں مولانا درد صاحب انگلستان تشریف لے گئے۔تو ان کے بعد مولانا جلال الدین صاحب شمس پہلے اسٹنٹ سیکرٹری کشمیر کمیٹی پھر اسٹنٹ سیکرٹری " آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن کی حیثیت سے کام کرنے لگے۔فروری ۱۹۳۶ء میں مولانا صاحب انگلستان میں تبلیغ اسلام کے لئے روانہ ہوئے تو حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب اس دفتر کے انچارج بنائے گئے اب یہ دفتر "کشمیر ریلیف فنڈ" کے نام سے موسوم ہو تا تھا۔اس دفتر کے ذمہ تحریک آزادی کشمیر سے متعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ امور کا انتظام تھا۔غیر احمدی دوستوں کے عطایا مسلم بنک لاہور میں جمع ہوتے تھے۔اور احمدیوں کا چندہ یہ دفتر وصول کرتا تھا۔دفتر کشمیر کمیٹی ہر قسم کے چندہ کی آمد اور خرچ کا پورا حساب رکھتا۔اندرون یا بیرون ریاست میں تحریک آزادی کے لیڈروں اور کارکنوں کے ضروری اخراجات مہیا کر تا کشمیری طلباء کے وظائف کا انتظام کرتا۔جلاوطن اور نظر بند کشمیریوں کی امداد کرتا اور عدالتوں کے ضروری اخراجات ادا کر تا تھا۔کشمیر ریلیف فنڈ شروع ہی میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد پر ہر احمدی کے لئے ایک پائی فی روپیہ کے حساب سے کشمیر ریلیف فنڈ لازمی قرار دے دیا گیا تھا اور جماعتیں عرصہ تک بڑے التزام سے یہ ادا کرتی رہیں۔اس فنڈ کے پہلے فنانشل سیکرٹری چوہدری برکت علی خان صاحب گڑھ شنکری تھے۔جنہوں نے اس مد کو غیر معمولی ترقی دی۔۷/ اپریل 197ء کو آپ کا انتقال ہو گیا۔جس پر چوہدری ظہور احمد صاحب ( آڈیٹر صدر انجمن احمدیہ پاکستان ) کو *F*197+ " ریلیف فنڈ " کی نگرانی کا کام سپرد کر کے حضور نے انہیں فنانشل سیکرٹری مقرر فرمایا۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اجلاس کشمیر کمیٹی کے اجلاس شملہ دہلی، سیالکوٹ اور لاہور میں ہوئے۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کو ان اجلاسوں میں بار بار شرکت کرنے کے علاوہ تحریک آزادی کے سلسلہ میں وزیر آباد راولپنڈی اور گڑھی حبیب اللہ بھی تشریف لے جانا پڑا۔آپ کے ساتھ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، مولوی عبد الرحیم