تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 430 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 430

تاریخ احمدیت جلد ۵ 418 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به کا مقصد حکام کے پاس وفود لے جانا ہو تو ہمیں اس سے معاف فرمایا جائے وفد بے نتیجہ ثابت ہوتے ہیں اس کے علاوہ مجھ میں اس قدر چستی اور مستعدی بھی باقی نہیں رہی۔بہر حال اگر آپ ممبروں میں میرا نام درج کریں تو اس سے پہلے باقی ممبروں کی فہرست ارسال فرمائیں۔مخلص محمد اقبال چہ بہ مکتوب ڈاکٹر سر محمد اقبال ۵/ ستمبر ۱۹۳۰ء) جو کہ آپنا یا منتظم ہے اور نین کے قد ادتی اس جانی مرموجود ہر اس در سلے آب بیت مفید نام معلمانوں جائے انجام کے پر لگے باقی رہا لو ڈ کا معاملہ سو یہ خیال بھر بنات لئے ہے بری صدارت کے کوریا زیادہ سوات نے کور را با استاد اور جو سے کم کر رہی ہو تو را در خون ہوگا۔عمر دو یز اور ہر بندہ اور ایک کو اور جانا ہو تو میں اس سے بات کرنا جا ئے۔محمود نے تجربات ہو نا ہی بر مانده بویر استور شستی از اشعه ی باران برت رہی۔پر مکہ لوگ آپ پھریوں پر برا نام مبیع کرنیلی از اس سے مجھے باقی نیروی نفرت اریسان نائم بع تلور هرتیک المختصر ڈاکٹر سرمحمد اقبال صاحب کی نگاہ میں چونکہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی ذات والا صفات سے بڑھ کر تحریک آزادی کشمیر کی قیادت کے لئے اور کوئی موزوں شخصیت ملک میں موجود نہیں تھی۔اس لئے آپ نے حضور ہی کا نام صدارت کے لئے پیش فرمایا ڈاکٹر صاحب کے بعد شمس العلماء خواجہ حسن نظامی صاحب اور دوسرے ارکان نے بھی اس کی مکمل تائید و حمایت کی اور جب ہر طرف سے یہی آواز بلند ہوئی تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے بتیس لاکھ مسلمانان جموں کے بنیادی انسانی حقوق دلانے اور انہیں اقتصادی غلامی سے نجات دلانے کے لئے صدارت کی ذمہ داری قبول فرمالی۔-