تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 428 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 428

تاریخ احمدیت جلد ۵ 416 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمد به بخش صاحب ریٹائرڈ سیشن جج سید محسن شاہ صاحب ایڈووکیٹ لاہور سیکرٹری آل انڈیا کشمیری کا نفرنس (لاہور) مولوی محمد اسمعیل صاحب غزنوی (امرتسر) مولوی نور الحق صاحب مالک "مسلم آؤٹ لک" (لاہور) سید حبیب صاحب ایڈیٹر سیاست (لاہور) شامل ہوئے۔ان کے علاوہ مولوی میرک شاہ صاحب (سابق پروفیسر دیوبند پروفیسر اور مینٹل کالج لاہور) نے نمائندہ کشمیر کی حیثیت سے اور جناب اللہ رکھا صاحب ساغر نے نمائندہ جموں کی حیثیت سے شرکت فرمائی۔صوبہ سرحد کی نمائندگی کے فرائض صاحبزادہ سر عبد القیوم کے بھائی صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب ( آف ٹوپی) نے انجام دیئے۔اور مسلم پریس کے لئے اس اجلاس کی روداد قلمبند کرنے کا فریضہ چوہدری ظہور احمد صاحب (حال ایڈیٹر صد را انجمن احمد یہ پاکستان) نے ادا کیا۔کانفرنس میں جب مسئلہ کشمیر پر بحث کا آغاز ہوا ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب، سرمیاں فضل حسین صاحب اور دوسرے نمائندوں نے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی امام جماعت احمدیہ سے کہا کہ اس بارے میں آپ وائسرائے سے ملیں اور اس سے گفتگو کر کے معلوم کریں کہ وہ کس حد تک کشمیر کے معاملات میں دخل دے سکتے ہیں جس حد تک وہ دخل دے سکتے ہوں اسی حد تک ہی ہمیں یہ سوال اٹھانا چاہئے۔حضور نے فرمایا کہ یہ طریق درست نہیں کہ وائسرائے سے پوچھا جائے کہ وہ کس حد تک دخل دے سکتا ہے بلکہ ہم سب سے پہلے کشمیر کے لوگوں سے پوچھیں گے کہ وہ کیا چاہتے ہیں اور پھر ان کے مطالبات کو پورے زور کے ساتھ گورنمنٹ کے سامنے رکھیں گے۔آخر طے پایا کہ ایک آل انڈیا کشمیر کمیٹی بنائی جائے جو اس سارے کام کو اپنے ذمہ لیکر انجام دئے اور اس وقت تک یہ مہم جاری رہے جب تک کہ ریاست کے باشندوں کو ان کے جائز حقوق نہ حاصل ہو جائیں تمام نمائندوں نے جو ریاست سے تعلق نہ رکھتے تھے یہ اقرار کیا کہ وہ بھی اس کمیٹی میں شمولیت اختیار کریں گے بلکہ وہ اسی وقت اس کے ممبر بھی بن گئے۔اس کمیٹی کے قیام کے بعد اب اس کی صدارت کا نازک معاملہ پیش ہوا ( کانفرنس کے نامہ نگار) چوہدری ظہور احمد صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ :- IA " مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کے دائیں ہاتھ ایک ہی صوفہ پر ڈاکٹر سر محمد اقبال بیٹھے تھے اور دائیں طرف دوسرے صوفہ پر نواب سر ذوالفقار علی تھے اور حضرت امام جماعت احمدیہ کے بائیں طرف پہلے خواجہ حسن نظامی اور ان کے بعد نواب صاحب آف سنج پورہ تھے اور پھر بقیہ معززین جن کا ذکر اوپر آچکا ہے ڈاکٹر سر محمد اقبال نے تجویز کیا کہ اس کمیٹی کے صد ر امام جماعت احمدیہ ہوں ان کے وسائل مخلص اور کام کرنے والے کارکن یہ سب باتیں ایسی ہیں کہ ان