تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 15 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 15

تاریخ احمدیت جلد ۵ 15 خلافت ثانیہ کا پندرھواں مین اور بڑے غور و فکر کے بعد ایک مفصل اور ضخیم رپورٹ لکھی جس میں ۲۷ سفارشات پیش کیں۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس رپورٹ کی بعض اغلاط اور نقائص کے باوجو د مشاورت ۱۹۳۰ء کے سامنے کمیٹی کی محنت و کاوش پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا : جو کام انہوں نے کیا ہے اسے مد نظر رکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پہلی دفعہ یہ کام کیا گیا ہے جس کے لئے انہوں نے پوری محنت کی ہے کافی وقت صرف کیا ہے اور ایک لمبی رپورٹ مرتب کی ہے جماعت کے شکریہ کے مستحق ہیں اور دوسروں کے لئے نمونہ ہیں۔غرض کمیشن نے بہت قابل تعریف اور مفید کام کیا ہے اور کسی ممبر کی غلطی سے اس کام پر پانی نہیں پھیرا جا سکتا۔کمیشن کا کام باعث خوشی ہے اور میں اس پر خوشی اور امتنان کا اظہار کرتا ہوں"۔" اس کے ساتھ ہی حضور نے صاف لفظوں میں یہ وضاحت فرما دی: ی۔۔۔۔کمیشن مجلس شوریٰ کا قائم مقام نہیں ہے بعض لوگوں کو غلطی لگی ہے اور خود کمیشن کے بعض ممبروں کو بھی غلط فہمی ہوئی ہے کہ انہوں نے کمیشن کو مجلس شوری کا قائمقام سمجھا ہے۔حالانکہ مجلس شوری اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی وہ میرے بلانے پر آتی اور آکر مشورہ دیتی ہے اور ہمیشہ خلیفہ کے بلانے پر آئے گی اور اسے مشورہ دے گی۔ورنہ وہ اپنی ذات میں کوئی حق نہیں رکھتی۔کہ مشورہ دے۔اور کمیشن خلیفہ نے مقرر کیا ہے تاکہ وہ اس کام کا معائنہ کرے جو کارکن کر رہے ہیں۔اور جس کی نگرانی خلیفہ کا کام ہے خلیفہ چونکہ اس قدر فرصت نہیں رکھتا کہ خود تمام کاموں کی نگرانی کر سکے اس لئے اس نے اپنی تسلی کے لئے کمیشن مقرر کیا تاکہ وہ دیکھے کہ کارکنوں کے سپرد جو کام ہے اسے وہ کس طرح کر رہے ہیں ؟"۔سیٹھ علی محمد صاحب کی کامیابی سے متعلق آسمانی بشارت حضرت سیٹھ عبداللہ اللہ دین صاحب سکندر آباد کا بیان ہے کہ "حضرت امیر المومنین کے ارشاد کے مطابق میں نے اپنے لڑکے علی محمد صاحب کو آئی۔سی۔ایس 11۔0۔8 کے لئے لندن روانہ کیا۔وہاں ان کو پہلے ایم۔اے کی ڈگری حاصل کرنی ضروری تھی۔مگرایم۔اے میں اس قدر دیر ہو گئی کہ آئی سی ایس کے لئے موقعہ نہ رہا۔ایم۔اے کے سات مضامین میں سے چھ تو انہوں نے پاس کر لئے مگر آخری مضمون (Constitutional Law) (قوانین آئین سازی) اور (Consitutional History) ( تاریخ آئین سازی) میں متواتر لیل ہوتے گئے اس لئے وہ نا امید ہو کر واپس چلے آنا چاہتے تھے ان کو سات سال کا عرصہ ہو تا تھا اس لئے میں نے حضرت امیرالمومنین سے ان کو واپس بلا لینے کی اجازت چاہی مگر حضور نے فرمایا کہ میں نے