تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 371 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 371

تاریخ احمد بیست - جلد ۵ 367 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۹۵ شباب کشمیر صفحه ۲۵۰ تا ۱۳۸۸ مولفه مورخ کشمیر منشی محمد الدین صاحب فوق) ۹۶ تاریخ اشاعت اسلام صفحہ ۵۶۳ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تبلیغ سے ایک فاضل برہمن مسلمان ہوا جس کا نام شیخ عبد اللہ رکھا گیا۔کشمیر کے موجودہ لیڈر شیر کشمیر شیخ عبد الله صاحب ان کے پوتے کے ہوتے ہیں۔۹۷ مزید ناموں کے لئے ملاحظہ ہو تاریخ اشاعت اسلام صفحه ۵۶۲-۱۵۶۳ از شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی خزیتہ الاصفیاء (جلد دوم) مولفہ مفتی رحیم اللہ قریشی اسدی الہاشمی اللہ ہوری۔مکمل تاریخ کشمیر جلد دوم صفحه ۱۲ مولفه مورخ کشمیر نشی محمد الدین صاحب فوق ۹۹ ( منقول از کتاب کا شمیر مصنفہ شری گوپال نیو ٹیا صفحہ ۱۱۷) بحوالہ کتاب مسئلہ کشمیر اور ہندو مماحبھائی صفحہ ۲۷ مولفہ ملک فضل حسین صاحب 100 كواله رساله نصرت ہفت روزه صفحه ۴۹- کشمیر نمبر (۲۸/ فروری ۱۹۶۰ء) 101 بحوالہ کشمیر اور جونا گڑھ کی کہانی صفحہ ۱۳۰۷ از جناب رئیس احمد صاحب جعفری) ۱۰۲ بحوالہ رسالہ نصرت لاہور صفحہ اے - THIS IS KASHMIR ۱۰۳ بحواله مختصر تاریخ کشمیر از الله بخش صاحب یوسفی شائع کردہ محمد علی ایجو کیشنل سوسائٹی یوسفی ہاؤس کراچی نمبرہ۔۱۰- خوں نا به کشمیر مولفه جناب فضل احمد صاحب صدیقی ایم۔اے مدیر ڈان شائع کردہ ادارہ ادب فریئر اسٹریٹ صدر کراچی نمبر ۲) ۱۰۵- یہی وہ زمانہ تھا جبکہ سینکٹروں دوسرے خاندانوں کی طرح حاجی میر شمس الدین صاحب (لائف پریذیڈنٹ انجمن حمایت اسلام) میاں کریم بخش صاحب رئیس اعظم، شیخ حسن دین صاحب ڈار (مدیر حمایت اسلام) کے خاندان کے علاوہ گنائی خاندان لاہور میں پناہ گزین ہوا۔خواجہ غلام محی الدین صاحب مالک کشمیر اخبار کے خاندان نے امر تسر میں بودوباش اختیار کرلی۔ڈھاکہ کا مشہور توالی خاندان (جس سے خواجہ نصرت جنگ نائب ناظم کا تعلق تھا، سکھوں کے مظالم سے تنگ آکر بنگال میں چلا گیا۔اسی طرح سیالکوٹ لاہور اور امرتسر میں آباد پال قوم کو بھی ان پر آشوب ایام میں کشمیر کو خیر باد کہنا پڑا۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو منشی محمد الدین صاحب فوق کی کتاب تاریخ اقوام کشمیر) ۱۰ کشمیر کے حالات از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب شائع کردہ آل انڈیا کشمیر کمیٹی طبع اول صفحه ۳-۵- اشاعت اول اگست ۱۹۳۱ء مطبوعہ قادیان- ۱۰۷ هنگامه کشمیر صفحه ۱۸ بحوالہ شیر کشمیر مصنفہ کلیم اختر صاحب صفحه ۹۲ تا ۹۳) شائع کردہ سندھ ساگر اکاڈمی لاہور طبع اول ۱۹۶۳ء۔-۱۰۸ کشمیری مسلمانوں کی ہجرت کا جو سلسلہ سکھ عہد حکومت میں شروع ہوا تھاوہ ڈوگرہ راج کے ابتداء میں بھی جاری رہا۔چنانچہ ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے جد امجد شیخ محمد رفیق صاحب بھی دوسرے بہت سے کشمیری خاندانوں کی طرح ۱۸۵۷ء کے بعد ہجرت کر کے سیالکوٹ میں آبسے تھے ڈار اور گورگانی خاندان جو تقسیم ہند سے پہلے امر تسر میں آباد تھا وہ بھی اسی دور میں ترک کشمیر پر مجبور ہوا تھا۔(ذکر اقبال صفحہ ۷-۱۸ مولقہ مولانا عبد المجید صاحب سالک و تاریخ اقوام کشمیر (جلد اول) ۱۹ صحیفہ زریں صفحہ سے مطبوعہ نول کشور لکھنو ۱۹۰۲ء۔-11۔تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۹۱ - ( طبع اول) بحوالہ مختصر تاریخ کشمیر ( از اللہ بخش صاحب یوسفی) صفحه ۶۱ - ۱۲ شیر کشمیر مصنف جناب کلیم اختر صاحب (طابع۔سندھ ساگر اکاڑی لاہور ۸ صفحه ۹۴-۹۵) تاریخ احمدیت جلد چهارم صفحه ۱۳۶ تا ۴۱ میں یہ واقعہ با تفصیل آچکا ہے۔۱۱۴ تاریخ احمدیت جلد چہارم صفحه ۱۴۰-۱۴۱) اس اخبار کے بعض متعلقہ پر چے خلافت لائبریری صد را انجمن احمد یہ ربوہ میں محفوظ ہیں) ۱۱۵ سوره مریم : ۶۶) ۹ روزنامه الفضل قادیان ۱۶ جون ۱۹۳۵ء صفحہ ۷- ۱۷ تاریخ احمدیت جلد پنجم صفحہ ۳۲۰ پر یہ واقعہ آچکا ہے۔