تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 370
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 366 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ ۷۳ کتاب صحیح بلاد شرقیہ میں تقریر جلسہ سالانہ ۱۹۷۰ء جناب مولانا شیخ عبد القادر صاحب فاضل) صفحه ۸۳-۸۶ ۷۴ ملحها از کتاب صحیح بلاد شرقیہ میں صفحہ ۷۰-۰۷۳ ۷۵ کتاب اگر مسیح صلیب پر قوت نہیں ہوا۔صفحہ اے بحوالہ Where did jesus die (مولفہ مولانا جلال الدین صاحب شمس) خدا کی سلطنت صفحه نے ۹ مطبوعہ ۶۱۹۱۵ ۷۷۔قوسین میں دیئے ہوئے الفاظ کرم خوردہ تھے جو مشکل سے پڑھے گئے۔۷۸ جناب خواجہ نذیر احمد صاحب نے اپنی کتاب " Earth Jesus in IIcaven on" کے صفحہ ۳۸۲ پر اس کا پہلی بار عکس شائع کیا۔۷۹۔جہم بن سامیہ علافیوں کے ساتھ عراق سے ہندوستان میں آیا۔۸۰ بان گستاولی فرانسیسی محقق نے اپنی کتاب تمدن عرب میں لکھا ہے کہ عربوں نے اپنی حکومت قائم ہو جانے کے ساتھ ہی ہندوستان سے تجارتی تعلقات کو بہت بڑی وسعت اور ترقی دی۔ہندوستان پہنچنے کے لئے بحری اور بری دونوں راستے اختیار کئے۔بری راستہ سے قافلے دمشق وبغداد و سمرقند و کشمیر سے ہوتے ہوئے ہندوستان پہنچتے تھے۔(تمدن عرب صفحه ۵۰۳) عرب کشمیری شالیں مسالہ جات عطریات اور بیش بہا لکڑیاں برآمد کرتے تھے (صفحہ ۵۰۴) پندرھویں صدی عیسوی کی فارسی کتاب ختائی نامہ میں ایک مسلمان تاجر نے لکھا ہے کہ عرب کشمیر کے راستہ سے چین تک تجارت کیا کرتے تھے۔(صفحہ ۵۰۵) ہندو روایات کے مطابق ۷۰۸ ء سے ۷۱۵ تک کشمیر کے یکے بعد دیگرے راجہ تار پیڈ اور راجہ للتات دو راجے گزرے ہیں۔مقدم الذکر کا عہد حکومت ۷ ء سے ۷۱۵ء تک رہا۔موخر الذکر راجہ کا دور حکومت ۷۱۵ ء سے ۶۷۵۲ تک بیان کیا جاتا ہے بعض قرائن سے جسم بن سامہ کی کشمیر میں آمد رمضان ۹۳ھ مطابق جون ۷۱۲ء کے بعد ہوئی ہے۔(مکمل تاریخ کشمیر جلد اول صفحہ ۱۹۵) ۸۲ هیچ نامه صفحه ۲۰۳ تألیف علی بن حامد ابو بکر الکوفی سنہ تالیف ۵۶۱۳ - ناشر مجلس مخطوطات- فارسیه حیدر آباد دکن سنه اشاعت ۱۹۳۹ء۔اس کتاب کا اصل نام فتح نامہ ہے۔۸۳ بحواله تاریخ اشاعت اسلام (مولفه جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی) صفحہ ۵۶ بنه اشاعت ۱۹۶۲ء- تا شر شیخ غلام علی اینڈ سنٹر لاہور ۸۴ مسلم ثقافت ہندوستان میں صفحہ ۲۷۱-۱۳۷۲ مولفہ جناب مولانا عبد الحمید صاحب سالک) طبع اول ۱۹۵۷ء ناشر ادارہ ثقافت -AO اسلامیہ لاہور۔جناب شیخ محمد اکرام صاحب ایم۔اے کی کتاب آپ کو ٹر کے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں اسکے دکے مسلمان کشمیر میں آتے جاتے رہتے تھے اور راجہ ہرش کے عہد حکومت (۱۱۰۳ء تا ۱۱۴ء) میں تو بعض مسلمان کشمیری فوج میں ملازم بھی رہے ہیں۔صفحہ ۴۲۶ حاشیه) آپ سوات سے ۱۳۱۵ء میں کشمیر تشریف لائے۔اور شاہی دربار تک پہنچے تھے اور کشمیر کے سیاسی تعلقات مسلمانوں سے قائم ہوئے۔( آب کوثر صفحہ ۴۲۶-۴۲۷) ۸۷- خزینۃ الاصفیا میں لکھا ہے کہ حضرت بلبل شاہ کا اصل نام سید شرف الدین تھا اور اسلام کشمیر میں انہی کی بدولت پھیلاوہ شاہ نعمت اللہ فارسی کے مرید اور سہروردی سلسلہ کے بزرگ تھے۔(بحوالہ آپ کو ثر صفحہ ۴۲۷) ۸۸- مکمل تاریخ کشمیر ( صفحه ۱۲-۱۳) مکمل تاریخ کشمیر جلد دوم صفحه ۱۳-۱۴- آپ کو ٹر میں اس کی بجائے ۱۳۶۹ء کا سال لکھا ہے۔-۹۱ مکمل تاریخ کشمیر جلد دوم صفحه ۰۲۱ ۲۳- تاریخ مذکورہ کے مطابق آپ کے یہ سب مرید سادات کرام سے تھے۔۹۲ تاریخ اشاعت اسلام مولفہ جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی (صفحہ ۵۲۰-۵۷) ۰۹۳ تاریخ اشاعت اسلام مولفه جناب شیخ محمد اسمعیل صاحب پانی پتی۔(صفحہ ۵۶-۵۶۲) ۹۴ ملخصا از کتاب مکمل تاریخ کشمیر جلد دوم صفحه ۳۳-۵۵-