تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 350 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 350

تاریخ احمدیت جلد ۵ 346 تحریک آزادی کشمیر اور جماعت احمدیہ وه ۴۷ برس تک حکمران رہا۔اور آخر سلطنت چھوڑ کر کسی غار میں عبادت کے لئے چلا گیا۔بھوشیہ صایران" کے علاوہ بندھیا چل کے ایک ہندو فرقہ " ناتھ جو گی" کی کتاب " ناتھ مامو بولی " میں بھی حضرت مسیح کا ذکر آتا ہے چنانچہ لکھتا ہے۔" عیسی ناتھ کو اپنے ہم وطنوں نے ہاتھوں اور پیروں میں کیل لگا کر سولی پر چڑھا کر مارنے کی کوشش کی اور مردہ سمجھ کر قبر میں رکھ دیا۔مگر عیسی ناتھ نے قبر سے نکل کر آریہ دیس میں فرار اختیار کیا اور کوہ ہمالیہ کے دامن (کشمیر) میں ایک خانقاہ قائم کی اور خانیار سرینگر میں ان کی سمادھی (مزار) ہے " - 1 بدھ مذہب کے لٹریچر کی شہادت ایک روی سیاح نکولس نائورچ ۱۸۹۰ء کے قریب لداخ میں بدھ مذہب کی ایک خانقاہ میں کئی ماہ مقیم رہا۔جہاں بدھ علماء انہیں اپنے کتب خانے میں سے پرانی کتابیں ترجمہ کر کے سنایا کرتے تھے۔ان میں سے ایک کتاب سے انہوں نے عیسی کے حالات پڑھ کر سنائے اس کتاب کا ترجمہ کر کے وہ ساتھ لے گئے اور فرانسیسی زبان میں ایک کتاب لکھی جس کا ترجمہ انگریزی میں بھی شائع ہو گیا ہے۔اس کتاب کا نام The Unknown Life of Jesus Christ" جب یہ کتاب شائع ہوئی تو عیسائی حلقوں نے پورا زور لگایا کہ اس کتاب کو جعلی ثابت کر دکھائیں۔اپنی کتاب کے دوسرے ایڈیشن میں نوٹووچ نے چیلنج کیا کہ میں محققین کے ایک مشن کے ساتھ خود ہندوستان جانے کے لئے تیار ہوں اور بدھ صحیفوں سے ان کی تسلی کروا سکتا ہوں۔چنانچہ ایک فاضل خاتون لیڈی میرک نے جس جاکر تحقیقات کی اور اس کے نتائج شائع کرتے ہوئے لکھا۔”لداخ کے شہریہ میں مسیح کی روایت ہمیں ملتی ہے۔جو یہاں عیسی کے نام سے مشہور تھے۔جس کے بدھ معبد میں ۱۵۰۰ سو سال قبل کی نہایت قیمتی دستاویزات رکھی ہیں جو مسیح کی زندگی کے ان ایام سے تعلق رکھتی ہیں۔جو اس نے یہاں بسر کئے ان میں لکھا ہے کہ اس علاقہ میں میسیج کو خوش آمدید کئی گئی اور یہاں اس نے لوگوں کو تعلیم دی۔پروفیسر نکولس رورک (Nicholas Roriek) نے وسط ایشیا کی سیاحت کے بعد ۱۹۲۹ء میں ایک کتاب (Heart of Asia) کے نام سے شائع کی۔اس کتاب میں پروفیسر د کور نے لکھا ہے کہ کشمیر، لداخ اور وسط ایشیا کے مختلف مقامات میں اب بھی یہ مضبوط روایات پائی جاتی ہیں کہ حضرت مسیح ناصری نے ان علاقوں کا سفر اختیار کیا ہے سری نگر میں وہ فوت ہوئے۔وہیں ان کا مزار ہے۔یہ سب کی سب روایات اس بات پر متفق ہیں کہ جس زمانے میں حضرت مسیح فلسطین سے غیر حاضر تھے۔اس وقت آپ ایشیا اور ہندوستان میں موجود تھے۔تمر