تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 11
د - جلد ۵ 11 بالکل جائز ہو گا اور پردہ کے حکم کے مطابق بغیر اس کے کھولنے کے وہ کام نہیں کر سکتیں اور جو حصہ ضروریات زندگی کے لئے اور ضروریات مصیبت کے لئے کھولنا پڑتا ہے بشرطیکہ وہ مصیبت جائز ہو اس کا کھولنا پر دے کے حکم میں شامل ہی ہے۔لیکن جس عورت کے کام اسے مجبور نہیں کرتے کہ وہ کھلے میدانوں میں نکل کر کام کرے اس کا منہ اس کے پر دے میں شامل ہے "۔معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مختلف حلقوں میں اسلامی پر وہ کا سوال زیادہ زور کے ساتھ اٹھا ہوا تھا چنانچہ انہی دنوں شیخ عبد الغفور صاحب میڈیکل سٹوڈنٹ نے (۲۹ / جون ۱۹۲۸ء کو) اور جناب مشرف حسین صاحب ایم۔اے دہلوی انسپکٹر ڈا کھانہ جات نے (۶ / جولائی ۱۹۲۸ء کو) حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر خاص طور پر اسلامی پردہ کی نسبت آپ کی رائے دریافت کی۔جس پر حضور کو پردہ کی مزید تشریح و توضیح کرنا پڑی۔گھروں میں درس جاری کرنے کی تحریک حضرت خلیفہ المحی الثانی ایده ایدہ اللہ تعالیٰ نے سالانہ جلسہ ۱۹۲۷ء پر جماعت کے دوستوں سے ارشاد فرمایا کہ وہ قرآن مجید حدیث شریف اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس جاری کریں اور جہاں روزانہ درس نہ ہو سکے۔وہاں ہفتہ میں دو بار یا کم از کم ہفتہ میں ایک ہی بار درس کا انتظام کر دیا جائے جس پر اس سال بہت سی نئی جگہوں میں درس جاری ہو گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے بھی حضور کے ارشاد پر وسط مارچ ۱۹۲۸ء میں ناظر تعلیم و تربیت کی حیثیت سے عہدیداران جماعت کو مزید توجہ دلائی کہ جہاں جہاں ابھی تک سلسلہ درس شروع نہیں ہوا اس کی طرف فورا توجہ دیں۔نیز گھروں میں بھی درس جاری کرنے کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا : ”ہمارے احباب کو چاہیے کہ علاوہ مقامی درس کے اپنے گھروں میں بھی قرآن شریف اور حدیث اور کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا درس جاری کریں۔اور یہ درس خاندان کے بزرگ کی طرف سے دیا جانا چاہیئے۔اس کے لئے بہترین وقت صبح کی نماز کے بعد کا ہے لیکن اگر وہ مناسب نہ ہو تو جس وقت بھی مناسب سمجھا جائے اس کا انتظام کیا جائے۔اس درس کے موقعہ پر گھر کے سب لوگ مرد عور تیں لڑکے لڑکیاں بلکہ گھر کی خدمت گاریں بھی شریک ہوں اور بالکل عام فہم سادہ طریق پر دیا جائے۔اور درس کا وقت بھی پندرہ بیس منٹ سے زیادہ نہ ہو تا کہ طبائع میں ملال نہ پیدا ہو۔اگر ممکن ہو تو کتاب کے پڑھنے کے لئے گھر کے بچوں اور ان کی ماں یا دوسری بڑی مستورات کو باری باری مقرر کیا جائے اور اس کی تشریح یا ترجمہ وغیرہ گھر کے بزرگ کی طرف سے ہو میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس قسم