تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 313
تاریخ احمدیت جلد ۵ 309 خلافت ثانیہ کا اٹھار ہو ان سال سے بلند کیا گیا تھا اور یہی امر سب سے زیادہ باعث شرم اور قابل نفرت ہے مسلمانان ہند کو اس واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیئے۔اور آئندہ کے واسطے اس فتنہ پردازی کا سدباب کرنا چاہئے۔ورنہ مسلمانوں کا تمام قومی شیرازہ بکھر جائے گا۔اور ان کے سیاسی حقوق کا قلعہ پاش پاش ہو جائے گا۔۔۔۔۔مسلمانوں کو اس وقت ہندوستان میں اپنی آٹھ کروڑ آبادی پر ناز ہے اور اسی کے تناسب سے ہم اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں اگر قادیانی شیعہ خوبے بو ہرے اور دیگر تمام فرقے مثلاً اہل قرآن اور اہل حدیث سب کے سب جیسا کہ علماء کرام ہمیشہ سے فتویٰ دیتے چلے آئے ہیں۔دائرہ اسلام سے خارج کر دئے جائیں۔تو خالص مسلمانوں کی آبادی ہندوستان میں کس قدر رہ جائے اور ان کے سیاسی مطالبات کی کیا گت ہو گی " جلیل القدر صحابہ کا انتقال ۱۹۳۱ء میں فوت ہونے والے بعض جلیل القدر صحابہ یہ ہیں۔(۱) ۱۹۳۱ء) چوہدری عبد السلام صاحب کا ٹھ گڑھی ( تاریخ وفات ۱۹/ اکتوبر حضرت سید ارادت حسین صاحب اور میوئی ( تاریخ وفات ۲/ نومبر ۱۹۳۱ء) - حضرت ملا محمد میرد صاحب افغان ساکن خوست ( تاریخ وفات ۷/۸ دسمبر ۱۹۳۱ء) ۱۹۳۱ء میں اندرون ملک کے مبلغین احمدیت سلسلہ احمدیہ کے مبلغین اب تک کسی خاص حلقہ میں تعینات نہ کئے جاتے تھے۔بلکہ مرکز جہاں چاہتا انہیں بھجوا دیتا تھا۔مگر مجالس مشاورت ۱۹۳۰ء میں فیصلہ کیا گیا کہ مبلغین کے ہیڈ کوارٹر تجویز کر کے وہ کئی حلقوں میں تقسیم کر دئیے جائیں۔اس فیصلہ کے مطابق ۱۹۳۱ء میں مبلغین کے لئے حسب ذیل حلقے مقرر کئے گئے تھے۔(1) صوبہ پنجاب میں نو حلقے تھے جن کی تفصیل مع مبلغین متعلقہ یہ ہے۔نمبر شمار نام ہیڈ کوارٹر نام مہتمم تبلیغ علاقہ حضرت مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری امرتسر گورداسپور لاہور فیروز پور مولوی ابوالبشارت عبد الغفور صاحب راولپنڈی کیمل پور ، جہلم ، میانوالی امرتسر راولپنڈی انبالہ مولوی محمد حسین صاحب انبالہ لدھیانہ پیالہ نامہ م سیالکوٹ ، حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی سیالکوٹ گوجرانوالہ گجرات ، شیخوپورہ 0 مولوی عبد الرحمن صاحب انور بو تالوی وہلی رہتک ، حصار کرنال له مولوی ظهور حسین صاحب ود علی جالندهر مهاشہ محمد عمر صاحب جالندھر ہوشیار پور کانگڑہ