تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 312
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 308 خلافت عثمانیہ کا اٹھار ہواں سال ہے اس میں پوری پوری مسلمانان ہند کی ترجمانی کی گئی ہے۔اور اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ بروقت مسلمانان ہند کی صحیح ترجمانی کرنے میں یہ اجلاس گزشتہ جلسوں سے زیادہ کامیاب رہا۔وزیر اعظم کے اس تاریخی اعلان پر جو اس نے ۲/ دسمبر کو گول میز کانفرنس میں پیش کیا تھا۔مایوسی کا اظہار افسوس کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا کہ جب تک وہ مسلمانوں کے فلاں فلاں مطالبات نہ منظور کریں۔اس وقت تک مسلمان محض اس اعلان سے ہرگز مطمئن نہیں ہو سکتے۔اس طرح ایک اہم تجویز آل انڈیا مسلم کانفرنس اور آل انڈیا مسلم لیگ کو متحد کرنے کے لئے منظور کی گئی۔جس پر مسلمانوں کی سیاسی موت وحیات کا دارد مدار ہے۔اسی طرح بعض اور مفید ضروری تجاویز منظور ہو ئیں۔اسی طرح خطبہ صدارت میں جس دلیری و بے باکی کے ساتھ حکومت کے رویہ کی مذمت اور حقوق مسلمین کی وکالت کا حق ادا کیا گیا ہے۔وہ بھی اس اجلاس کی ایک تاریخی خصوصیت ہے"۔" (۳) "الخلیل دیلی نے اپنے کیم جنوری ۱۹۳۲ء کے پرچہ میں لکھا۔چودھری ظفر اللہ خاں نے آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس دہلی میں جو خطبہ صدارت ارشاد فرمایا۔وہ اپنی نوعیت و سود مندی کے اعتبار سے وقت کا ایک اہم خطبہ ہے اور اس میں مسلم جذبات کی صحیح صحیح ترجمانی کی گئی ہے۔ہم چوہدری صاحب کے ممنون ہیں کہ آپ نے مسلم جذبات کی کچی وکالت کی اور حکومت اور دنیا کو ایک دفعہ اور متنبہ کر دیا ہے کہ اگر مسلمانوں کے حقیقی مطالبات منظور نہ کئے گئے اور انتخاب جدا گانہ کے قیام میں پنجاب دبنگال میں مسلم اکثریت کے تحفظ سندھ کی غیر مشروط علیحدگی اور سرحد کو حقیقی اصلاحات کے عطا کرنے کی طرف مستعد انہ قدم نہ اٹھایا گیا تو یہاں کوئی آئین کامیاب نہ ہو گا اور مسلمان ہرگز مطمئن نہ ہوں گے۔مسلم حقوق کی وکالت کا جو طریقہ آپ نے اختیار کیا۔وہ بہت صحیح اور بہت درست تھا۔تمام خطبہ آپ کی فاضلانہ اور دلیرانہ ترجمانی سے لبریز ہے۔آپ نے اس خطبہ صدارت میں جن گرانقدر خیالات کا اظہار کیا ہے۔حقیقت میں وہی مسلمانوں کے خیالات ہیں اس خطبہ کو پڑھ کر مخالفین کو یقینا اپنے احتجاجی فعل و عمل پر افسوس ہوا ہو گا اور ہونا چاہیے " سر محمد یعقوب خاں صاحب نے اجلاس دہلی کے بخیر و خوبی منعقد ہو جانے کے بعد مسلمانان ہند کو توجہ دلائی کہ " آل انڈیا مسلم لیگ کو اپنا سالانہ اجلاس منعقد کرنے میں جو دشواریاں دہلی میں ۲۶ / دسمبر ۱۹۳۱ء کو پیش آئیں وہ پہلی مرتبہ نہ تھیں بلکہ اس سے پیشتر کئی مرتبہ لیگ کے مخالفوں نے اس کو توڑنے اور اس کے جلسوں کو ناکام بنانے میں سعی اور کوشش کا کوئی دقیقہ نہیں اٹھار کھا۔۔۔اس مرتبہ دہلی میں مخالفین کا ہجوم۔۔۔بہت زیادہ اور بہت قوی اسی وجہ سے ہوا کہ علم بغاوت مذہب کے نام