تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 276
تاریخ احمدیت جلد ۵ 272 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال صنعت و حرفت کی طرف توجہ ہندوستان میں تجارت قریباً تمام کی تمام ہندوؤں کے ہاتھ میں تھی جو مسلمان اس طرف توجہ کرتے تھے۔وہ اس لئے کامیاب نہیں ہو سکتے تھے کہ درمیان کے سارے راستے ہندوؤں کے قبضہ میں تھے۔جب ملک میں سودیشی تحریک پیدا ہوئی تو مسلمانوں کو بھی صنعت کا خیال آیا۔لیکن بڑھتی ، جلا ہے، معمار کو ہار جو پہلے زیادہ تر مسلمان ہوتے تھے۔وہ گرے ہوئے برتاؤ کی وجہ سے اپنے اپنے پیشہ کو حقیر سمجھ کر چھوڑ چکے اور اس کی جگہ دوسرا کام اختیار کر چکے تھے۔اس لئے سودیشی تحریک سے بھی زیادہ تر فائدہ ہندوؤں ہی نے حاصل کیا۔اور وہ تجارت کے قریباً تمام شعبوں پر قابض ہو گئے۔حتی کہ ذبیحہ گاؤ کے سوال پر آئے دن جابجا فسادات بر پا کرنے کے باوجود چمڑے کی تجارت کے بھی مالک بن بیٹھے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالٰی نے اس سال مشاورت ۱۹۳۱ء کے موقع پر دوسرے مسلمانوں کو عموماً اور اپنی جماعت کو خصوصاً اس نازک صورت حال کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ جماعتی ترقی کے لئے صنعت و حرفت اور تجازت ضروری چیزیں ہیں۔اور اگر مسلمانوں نے جلد ہی ادھر توجہ نہ کی تو ان پر ترقی کے راستے ہمیشہ کے لئے بند ہو جائیں گے۔حضور نے اس سلسلہ میں ایک صنعتی تحریک جاری کرنے کا قصد فرمایا اور اس کی سکیم بنانے کے لئے چند تجربہ کار اصحاب پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی جن کے اسماء درج ذیل ہیں۔(1) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (پریذیڈنٹ) (۲) حضرت مولوی عبد المغنی خان صاحب ناظر بیت المال (۳) سیٹھ فاضل بھائی صاحب سکندر آباد دکن (۴) مرزا محمد اشرف صاحب ( محاسب صدر انجمن احمدیہ (۵) محمد فاضل صاحب راولپنڈی (۲) مولوی محمد عبد الله صاحب (بو تالوی) (۷) شیخ عبد الرحمن صاحب مصری - صنعتی تحریک کی سکیم کے مطابق قادیان میں پہلا کارخانہ ہوزری فیکٹری" کے نام سے کھولا گیا جو ۱۹۲۳ء سے ۱۹۴۷ء تک بڑی کامیابی سے چلتا رہا۔حضور ایده الله ناظروں کے دوروں سے متعلق حضرت خلیفہ ثانی کی ہدایت تعالی نے مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء کے موقع پر ایک طرف تو ناظروں کو یہ ہدایت کی کہ وہ دورے کر کے جماعتوں کی رہنمائی کریں اور دوسری طرف جماعتوں سے ارشاد فرمایا کہ۔میں امید کرتا ہوں آئندہ جماعتیں ناظروں کے دورہ سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں گی اور ان کا احترام کر کے ثابت کر دیں گی۔کہ ہم دینی خدمت کرنے والوں کا پورا پورا احترام کرنے والے