تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 275
تاریخ احمدیت جلد ۵ 271 خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ تعالٰی نے اس نازک موقع پر مارچ ۱۹۳۱ء مسلمانوں کو پھر اتحاد کی پر زور تلقین فرمائی اور نصیحت کی کہ اگر مسلمان ہندوستان میں زندہ رہنا چاہتے ہیں۔تو انہیں یہ سمجھوتہ کرنا چاہئے کہ اگر دیگر قوموں کی طرف سے کسی اسلامی فرقہ پر ظلم ہو تو خواہ اندرونی طور پر اس سے کتنا ہی شدید اختلاف کیوں نہ ہو اس موقع پر متفق ہو جا ئیں گے - تحریک اتحاد کے تعلق میں جماعت احمدیہ کی کوششیں کہاں تک بار آور ہو ئیں اس کا اندازہ ایک ہندو اخبار کے حسب ذیل الفاظ سے لگ سکتا ہے۔اخبار " آریہ دیر لاہور (۹/ اگست ۱۹۳۱ء صفحہ ۶) نے لکھا۔رشی دیانند اور منشی اندرمن کے زبر دست اعتراضات کی تاب نہ لاکر مرزا غلام احمد قادیانی نے احمد یہ تحریک کو جاری کیا۔احمد یہ تحریک کا زیادہ تر حلقہ کار مسلمانوں کے درمیان رہا۔۔۔۔۔اس جماعت کے کام نے مسلمانوں کے اندر حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دی ہے۔اس تحریک نے مسلمانوں کے اندر اتحاد پیدا کر دیا۔۔۔آج مسلمان ایک طاقت ہیں ، مسلمان قرآن کے گرد جمع ہو گئے "۔مسلمانوں کے لئے نازک وقت اور جماعت احمدیہ کو نصیحت خدا تعالی کے فضل سے اب جماعت احمدیہ کو ایک ایسا مقام حاصل ہو چکا تھا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کی نگاہیں اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے اس کی طرف اٹھتی تھیں اور وہ جماعت کی سیاسی رہنمائی اور قیادت کا اقرار کھلے لفظوں میں کرنے لگے تھے حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نے مجلس مشاورت ۱۹۳۱ء منعقدہ ۲-۳-۴/ اپریل) کے موقع پر جماعت کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔کہ - اب ایسے تغیرات ہونے والے ہیں کہ اگر مسلمانوں نے ہوشیاری سے کام نہ لیا اور اللہ تعالٰی کا فضل جذب کرنے کی تدبیر نہ کی تو ہندوستان میں مسلمان اس طرح تباہ ہو جائیں گے جس طرح سپین میں ہوئے تھے اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ اگر مسلمان ہو شیاری سے کام لیں اور خدا تعالیٰ کی رضا کے ماتحت کام کریں تو یہ ملک جس میں ۳۳ کروڈ دیوتاؤں کی پرستش کی جاتی ہے خدائے واحد کی عبادت کرنے لگے۔اس سلسلہ میں حضور نے جماعت کو اس کی ذمہ داری کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا۔" خدا تعالیٰ کی توحید قائم ہوگی۔اور ضرور قائم ہوگی مگر یہ ضروری نہیں کہ اسلام کی ترقی ہمارے ہاتھوں ہو۔اگر ہم اس کے اہل ثابت ہوئے تو ہمارے ہاتھوں ہوگی ورنہ خدا تعالیٰ کوئی اور قوم کھڑی کر دے گا"۔