تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 260
تاریخ احمدیت جلد ۵ 256 خلافت عباسیہ کا اٹھارہواں سال کریں دوسرے لوگوں سے ممتاز حیثیت دی جائے۔انصار اللہ میں داخل ہونے والے احمدیوں سے یہ عہد لیا جاتا تھا کہ وہ نظارت دعوۃ کو تبلیغ یا مقامی سیکرٹری تبلیغ کے ماتحت اپنے ایام وقف تبلیغ سلسلہ کے لئے اس حلقہ میں گزاریں گے۔جو ان کے لئے مقرر کیا جائے گا اور اپنی علمی استعداد بڑھانے کے لئے ان مضامین کی تیاری کریں گے جولا ئحہ عمل میں تجویز کئے گئے ہیں۔یہ تبلیغی تنظیم جو نظارت دعوۃ و تبلیغ کی دست و بازو ثابت ہوئی اور ملک کے طول و عرض میں اس نے نمایاں خدمات انجام دیں۔اس کی ترقی میں حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی کوششوں کا بہت دخل تھا۔انصار اللہ کی تبلیغی سرگرمیوں کا آغاز قادیان کے قرب و جوار میں بیٹ کے علاقہ سے کیا گیا۔جہاں ۲۸/ مارچ ۱۹۳۱ء کو ہتیں افراد پر مشتمل پہلا وفد پہنچا اس نے سولہ حلقوں میں تقسیم ہو کر ایک سو پندرہ بستیوں میں پیغام احمد بیت پھیلانے کی بنیاد رکھ دی۔سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ارشاد فرمایا تھا کہ قادیان کا ہر بالغ احمدی (معذوروں کے سوا) سال میں پندرہ دن تبلیغ کے لئے وقف کرے جو نظارت دعوۃ تبلیغ کے زیر انتظام بیرونی مقامات میں بھیجا جائے گا۔انصار اللہ کے اس پہلے وفد کے تمام افراد قادیان ہی کے رہنے والے اور حضور کی تحریک پر روح اخلاص کا نمونہ دکھانے والوں میں سابقون الاولون تھے۔اس کے بعد 9/ اپریل ۱۹۳۱ ء کو دو سرا دفند ( کہ وہ بھی بہتیں ہی افراد پر مشتمل تھا۔اسی علاقہ میں روانہ ہوا۔چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ بلاد عربیہ کا بیان ہے کہ حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی اس تبلیغی مہم بیٹ کے انچارج مقرر کئے گئے تھے آپ کا ہیڈ کوارٹر ” بھینی میلواں" تھا۔میں بھی جولائی کے اس وفد میں شامل تھا جس نے اس علاقہ میں کام کیا۔قادیان سے باہر جس تنظیم انصار اللہ نے سب سے پہلے اپنے حلقہ تبلیغ میں کام شروع کرنے کی اطلاع دی۔وہ بنگہ ضلع جالندھر کی تنظیم انصار اللہ تھی۔یہ تھی مختصری داغ بیل اس تنظیم کی جو بعد کو جماعت احمدیہ کی ایک مستقل تحریک بنی اور جو آج عظیم الشان خدمات بجالا رہی ہے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۲۷/ قومی نقائص کی اصلاح کے لئے جدوجہد فروری ۱۹۳۱ء کو ایک سلسلہ خطبات شروع فرمایا۔جس میں حضور نے جماعت احمدیہ کو بعض ان قومی امور کی طرف توجہ دلائی جو مسلمانوں کے زوال کا باعث بنے۔مثلاً حضور نے بتایا کہ جب تک مسلمان یہ یقین رکھتے رہے کہ قرآن مجید رسیع و غیر محدود مطالب رکھتا ہے ان کی علمی ترقی جاری رہی مگر جس وقت ان میں یہ خیال پیدا ہوا۔کہ قرآنی