تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 259 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 259

تاریخ احمدیت جلد ۵ چوتھا باب (فصل اول) 255 خلافت عثمانیہ کا اٹھارہواں سال مجلس انصار اللہ کے احیاء سے لے کر مسلم لیگ کے اجلاس دہلی (دسمبر ۱۹۳۱ء) میں محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے خطبہ صدارت تک خلافت ثانیہ کا اٹھارہواں سال جنوری ۱۹۳۱ء تا دسمبر ۱۹۳۱ء بمطابق شعبان ۱۳۴۹ھ تا شعبان ۵۱۳۵۰) ہم ۱۹۲۸ء کے واقعات قلمبند کرتے ہوئے اب ۱۹۳۱ء کے اس اہم سال میں آپہنچے ہیں جس میں تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہوا۔اور حضرت امام جماعت احمد یہ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی صدارت میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی جیسے فعال اور ملک گیر ادارہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔جس کے تحت جماعت احمدیہ کا ہر فرد کشمیر کے مسلم لیڈروں اور دوسرے مسلمانوں کے دوش بدوش آزادی کشمیر کے لئے سربکف ہو کر میدان عمل میں آگیا۔کشمیر کی تحریک آزادی میں جماعت احمدیہ کی سنہری خدمات بہت تفصیل طلب ہیں اور ان کی اہمیت و عظمت کا تقاضا ہے کہ وہ یک جائی طور پر پوری شرح و بسط سے زیب قرطاس کی جائیں۔تایہ بھی معلوم ہو سکے کہ مصلح موعود سے متعلق یہ پیشگوئی کہ وہ امیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا۔کس شان سے پوری ہوئی۔لہذا اس جلد کا حصہ دوم اس اہم تحریک کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے اور یہاں صرف اس قدر اشارہ پر اکتفا کرتے ہوئے ۱۹۳۱ء کے دوسرے حالات و واقعات پر نظر ڈالتے ہیں۔انصار اللہ " کا احیاء اور اس کی تبلیغی خدمات فروری ۱۹۳۱ء میں انصار اللہ " کا احیاء ہوا اور اس کا مقصد یہ قرار پایا۔کہ ہر جماعت سے ایسے مخلصوں کو جو تبلیغ کے لئے اپنے اوقات مرکزی لائحہ عمل کے مطابق وقف