تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 231
تاریخ احمدیت جلد ۵ 227 خلافت ثانیہ کا سترھواں سا مکتوب از لنڈن ۲۷ جولائی ۱۹۳۴ء د الله الخمر الرجے سیدنا و امامنا السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ سیاسی اور آئینی امور کے متعلق تو انہی قیاسات کی مزید تائید ہوئی ہے جن کا ذکر خدمت اقدس میں پیشتر کر چکا ہوں سندھ کی علیحدگی کے خلاف یہاں مخالفین نے ایک مرکز قائم کر رکھا ہے جس کی طرف متواتر سرگرمی سے کوشش جاری ہے۔لیکن معلوم ہوا کہ کمیٹی اس سے متاثر نہیں ہوئی میں اس امر پر زور دے رہا ہوں کہ سندھ کی علیحدگی دیگر صوبجات میں نئے نظام کے اجراء کے ساتھ ہی عمل میں آجائے۔۔۔۔۔" چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو گول میز کانفرنس اور اسکی تجاویز پر غور کرنے مسلمانان ہند کی طرف سے خراج تحسین والی پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ ۱۹۳۴ء میں شائع ہوتی جسے ۱۹۳۵ء میں برطانوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے پاس کر دیا۔اور اس کا نام گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ رکھا گیا۔جو ہندوستان میں یکم اپریل ۱۹۳۷ء سے نافذ بھی ہو گیا۔ہندوستان کے اس جدید آئین اساسی میں مسلمانوں کے کم و بیش تمام مطالبات منظور کرلئے گئے جداگانه انتخاب بدستور قائم رہا۔صوبہ سرحد میں مکمل اصلاحات رائج کر دی گئیں۔سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر کے ایک جداگانہ صوبے کی حیثیت دے دی گئی پنجاب میں مسلمانوں کی اکثریت (اگر چہ بے حد قلیل قائم ہو گئی البتہ بنگال سے متعلق مسلم مطالبہ تسلیم نہ کیا جا سکا۔اور مسلمانوں کی آئینی اکثریت قائم نہ ہوئی۔البتہ کانگریس کا زور وہاں بھی تو ڑ دیا گیا۔اس کے علاوہ گورنروں کو اس قسم کی ہدایات جاری کر دی گئیں۔کہ صوبائی وزارتوں میں مسلمانوں کو ایک تہائی حصہ ضرور ملنا چاہئے۔اور ان کامیابیوں کا سہرا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی توجہ کے طفیل چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے سر تھا۔جنہوں نے کامیاب وکالت کو خیر باد کہہ کر چار سال تک اپنی الگا تار کوششیں ملک کی آئین سازی کے نقشہ میں مسلم حقوق کا رنگ بھرنے کے لئے وقف کئے رکھیں۔اسلامی ہند کی سیاسی تاریخ میں چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے اسلامی حقوق کی پاسبانی و ترجمانی کا فریضہ جس خوش اسلوبی سے ادا کیا اس پر ہندی مسلمانوں نے کھلے دل سے خراج تحسین ادا کیا۔اور سیاسی معاملات میں آپ کی بلندی فکر و اصابت رائے کا سکہ بڑے بڑے مدبران سیاست کے قلوب پر بیٹھ گئیں۔اور مسلمانوں نے آپ کی مدلل و پرزور تقریروں پیچید والا یخل مسائل میں برمحل را ہنمائی نے امت مسلمہ کی شاندار خدمات کا اقرار کیا اور جب آپ لندن سے واپس آئے تو آپ کا شاندار استقبال کیا گیا اور ۱۹۳۴ء میں آپ آزیبل سرمیاں فضل حسین صاحب کی جگہ وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل