تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 230
226 خلافت ثمانیہ کا سترھواں۔تقریروں کی نقول بھی بھیج دی ہوں گی۔۔۔۔والسلام حضور کا غلام خاکسار ظفر اللہ خاں"۔بدالله الرحمن النجن، سیدنا و اما منا! السلام علیکم ورحمتہ مکتوب از لنڈن ۷ انو مبر ۱۹۳۲ء اللہ وبرکاتہ " آج کا نفرنس کا ابتدائی اجلاس ہے با قاعدہ اجلاسن ۲۱ ( نومبر ناقل) سے شروع ہوں گے۔وزیر ہند اور وزیر اعظم سے مل چکا ہوں مئوخر الذکر سے تو رسمی ملاقات تھی وزیر ہند سے مفصل اور بلا تکلف گفتگو ہوئی۔سندھ کی علیحدگی کے متعلق وہ پوری امید دلاتے ہیں مرکزی مجلس میں مسلم نمائندگی پر بھی بحث ہوئی۔برطانوی ہند کے حصہ میں سے تیسرا حصہ تو وہ تسلیم کرتے ہیں لیکن ریاستوں کو زائد نیابت دینے سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں اس کا حل ابھی تجویز نہیں ہو سکا۔۔۔۔۔و السلام- حضور کا غلام خاکسار ظفر اللہ خاں"۔مکتوب از لنڈن ۲۶ مئی ۱۹۳۳ء بد الله الرحمن الجنے سیدنا و امامنا! السلام علیکم و رحمتہ پہلوؤں پر اللہ وبرکاتہ پرسوں خاکسار۔۔۔۔و زیر نو آبادیات سے ملا تھا فلسطین کے معاملات پر گفتگو تھی۔میاں سر فضل حسین صاحب نے لکھا تھا کہ چونکہ ہندوستان میں اس معاملہ پر شور ہو رہا ہے اس لئے کوشش کی جائے کہ اول حکومت کی پالیسی عربوں سے ہمدردی کی ہو اور دوسرے حکومت ہند کو اطلاع دی جائے کہ فلسطین میں کیا کیا جا رہا ہے وزیر صاحب کے ساتھ بہت سے پر گفتگو ہوئی اور گفتگو کے درمیان میں مجھے خیال ہوا کہ واپسی پر میں فلسطین سے ہو تا جاؤں گفتگو کے آخر میں فلسطین کے ہائی کمشنر سے بھی ملاقات ہو گئی جو آجکل انگلستان آئے ہوئے تھے اگر حضور پسند فرما ئیں تو خاکسار واپسی پر قسطنطنیہ یروشلم وغیرہ سے ہوتا آئے اس صورت میں حضور ہدایات بھی ارسال فرما دیں کہ ان ممالک میں نما کسار کن امور کی طرف توجہ کرے خصوصیت سے فلسطین میں ہائی کمشنر نے وعدہ کیا ہے کہ وہ مناسب سہولتیں بہم پہنچا دیں گے تاکہ میں دیکھ لوں کہ حکومت کی کیا پالیسی ہے اور اسے کس طرح چلایا جا رہا ہے۔۲ جون کے بعد کمیٹی کا اجلاس ۱۳ جون کو ہو گا۔فی الحال کمیٹی میں صرف تمہیدی بحث ہو رہی ہے میں نے مسلمانوں کی طرف سے قریباً تمام ایسے مسائل کا ذکر کر دیا ہے جس کی زدان پر پڑتی ہے تفصیلی بحث میں پھر ان پر زور دیا جائے گا انشاء اللہ درخواست ہے کہ حضور خاکسار کو اپنی دعاؤں میں یاد فرماتے رہیں۔ہزہائی نس آغا خاں، ڈاکٹر شفاعت احمد خاں اور مسٹر غزنوی مینوں نے مجوزہ ہندو مسلم سکھ معاہدہ کے خلاف اپنی رائے میاں سر فضل حسین صاحب کو میری معرفت بھجوادی ہے۔والسلام۔حضور کا غلام خاکسار ظفر اللہ خاں"۔