تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 226
تاریخ احمدیت۔جلد ۵ 222 خلافت ثانیہ کا سترھواں سا۔و السلام حضور کا غلام خاکسار ظفر اللہ خان گول میز کانفرنس اور محترم چوہدری سید نا حضرت خلیفة المح الانی ایده الله تعالی بصره ظفر اللہ خان صاحب کی سنہری خدمات العزیز نے سائمن کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ فرماتے ہوئے مسلمانان ہند کے جن مطالبات و حقوق پر علمی وسیاسی نقطہ نظرت میر حاصل روشنی ڈالی تھی۔وہ گول میز کانفرنس میں اکثر و بیشتر مسلم زعماء کی بحث کا مرکز رہے۔اور انہوں نے اپنی اپنی اہمیت کے مطابق برطانوی نمائندوں کے سامنے ان کی ضرورت و اہمیت واضح کی مگر اس کی بہترین اور شاندار وکالت کا حق چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ادا کیا جو دو پھیلے کا نفرنس کی طرح اس کا نفرنس میں بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی زبان بن گئے۔کانفرنس میں کونسے پیچیدہ مسائل در پیش تھے کس طرح ان پر غور و بحث کے لئے کارروائی ہوئی اور چوہدری صاحب نے اس میں کیا کیا کام کیا اس کا محض سرسری سا اندازہ کرنے کے لئے ذیل میں چوہدری صاحب موصوف کے بعض ان خطوط کے بعض اقتباسات درج کئے جاتے ہیں۔جو کانفرنس کے سلسلہ میں آپ وقتا فوقتا اپنے آقاد مرشد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خدمت میں لکھتے تھے یہ خطوط مسلمانان ہند کی سیاسی جدوجہد کی مستند ترین دستاویز ہیں۔مکتوب از لاهور ۳۰ اگست ۱۹۳۰ء بد الله الرحمن الرح سيدنا واما منا! السلام عليكم و رحمتہ اللہ وبرکاتہ آج گورنر صاحب کی چٹھی آئی ہے کہ وائسرائے صاحب تمہیں گول میز کانفرنس میں شرکت کے لئے نامزد کرنا چاہتے ہیں۔لیکن آخری فیصلہ کرنے سے پہلے معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ آیا تم جا سکو گے یا نہیں۔۔۔میں نے لکھ دیا ہے کہ میں جانے کے لئے تیار ہوں۔۔۔۔حضور دعا فرمائیں کہ اگر خاکسار کے ذمہ یہ خدمت ڈالی جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی رضا اور مسلمانوں کی بہتری کے مطابق عمل کرنے کی بصارت اور توفیق عطا فرمائیں۔والسلام۔حضور کا غلام ظفر اللہ خاں ا بد الله الرحمن ال نے سیدنا امامنا السلام علیکم ورحمتہ اللہ مکتوب از لنڈن ۱۲ نومبر ۱۹۳۰ء وبركاته گول میز کانفرنس کا افتتاح ملک معظم نے کیا تقریریں وغیرہ کل ہی ہندوستان میں بھی شائع ہو جائیں گی یہ کارروائی تو محض نمائشی تھی اصل اجلاس