تاریخ احمدیت (جلد 5)

by Other Authors

Page 187 of 819

تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 187

تاریخ احمد بیت ، جلد ۵ 183 خلافت ثانیہ کاسترھواں سال کوشش نہ کریں۔خالی مضمون ہر ایک شخص لکھ سکتا ہے لیکن اس کوشش میں بہت کم لوگ کامیاب ہوتے ہیں کہ ایسا مضمون لکھیں جو دوسروں کے لئے زیادتی علم کا موجب ہو۔حالانکہ اصل مضمون وہی ہے جو اپنے اندر کوئی نئی بات رکھتا ہو پس میں آپ کو نصیحت کروں گا کہ آپ اپنے رسالہ میں ہمیشہ کوشش کر کے مضمون لکھیں اور ان امور کو مد نظر رکھیں۔-۲ -4 -A -4 ایسے مضمونوں کو منتخب کریں جو واقعہ میں مفید ہوں اور صرف ذہنی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش نہ کی گئی ہو۔ہمیشہ اس امر کو مد نظر رکھیں کہ مضمون کی طبعی ترتیب قائم رکھی جائے تاکہ پڑھنے والے کے اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے۔ہمیشہ مضمون میں ایسے مفید پہلو پیدا کرنے کی کوشش کریں جو اس سے پہلے زیر بحث نہ آئے ہوں۔ہمیشہ ایسے امور پر بحث کریں جن سے ذہن میں وسعت پیدا ہو اور تنگ ظرفی اور کج بحثی پیدا کرنے والے نہ ہوں۔ہمیشہ یہ کوشش کریں کہ تقویٰ کا دامن نہ چھوٹے۔اپنے خیال کو ثابت کرنے کے لئے کبھی جھوٹے استدلال کو کام میں نہ لاویں۔اگر کسی امر میں اپنی غلطی معلوم ہو تو اس کے اقرار کرنے سے دریغ نہ ہو۔جن لوگوں کو آپ سے پہلے علم پر غور کرنے کا موقعہ ملا ہو ان کے غوروفکر کے نتائج کو مناسب درجہ دیں لیکن:- یہ یادر ہے کہ انسانی علم کی ترقی کبھی مسدود نہیں ہو سکتی مگر ساتھ ہی یہ امر بھی ہے کہ :- علم کے جس مقام پر اب دنیا ہے وہ پہلوں کی قربانی کا ہی نتیجہ ہے اگر وہ نہ ہوتے تو ہم بھی اس مقام پر کھڑے نہ ہوتے پس ان کی غلطیاں ہی ہماری اصابت رائے کا موجب ہیں۔۱۲ رسالہ جامعہ احمدیہ نے اپنے محققانہ مضامین کی وجہ سے بہت جلد اپنا مقام پیدا کر لیا۔اور جماعت نے طلباء جامعہ احمدیہ کے ٹھوس اور مدلل مضامین کو سراہا۔دسمبر ۱۹۳۰ء میں یعنی پہلے ہی سال اس کا ایک ضخیم سالنامہ شائع ہوا جو معیاری مضامین اور عمدہ تصاویر کا مرقع تھا۔افسوس یہ رسالہ اقتصادی مشکلات کی وجہ سے جاری نہ رہ سکا۔اور دسمبر ۱۹۳۲ء میں بند کر دیا گیا۔اس سال تعلیم الاسلام تعلیم الاسلام ہائی سکول میگزین کا اجراء اور حضور کا پیغام ہائی سکول کی طرف سے