تاریخ احمدیت (جلد 5) — Page 186
- جلد ۵ 182 خلافت ثانیہ کا سترھواں سال سیکرٹری کو ہدایت فرمائیں کہ وہ مولوی صاحب موصوف کو معرفت سیٹھ عبد اللہ بھائی صاحب الہ دین بلڈنگس سکندر آباد دکن اطلاع کر دیں۔کہ اس وقت ان کا آنا قرین مصلحت نہ ہو گا۔اگر بالعکس ان کے آنے میں کوئی روک نہ ہو تو اس لحاظ سے کہ یہ نوجوان علوم اسلامیہ میں حصہ وافر رکھتے ہیں۔اگر ان سے وعظ و نصیحت کی کوئی خدمت جناب کی ریاست میں ہو جائے تو ان کا قلیل قیام ان کے لئے موجب حصول ثواب بھی ہو جائے گا۔ورنہ اصل غرض تو میری جانب سے السلام علیکم پہنچانا اور مزاج پر سی ہی ہے۔غالبا عزیزند کور خود بھی خط لکھیں گے۔والسلام - مرزا محمود احمد معزز قارئین ! اللہ تعالٰی کے فضل سے حضور کی دعاؤں کی برکت سے یہ سفر بہت کامیاب رہا۔میں نے حضور کی سب ہدایات کی حرف بحرف تعمیل کی تھی۔آپ ذرا ان خطوط میں اس محبت اور پیار کے انداز کو تو دیکھیں جو ہمارے امام رضی اللہ عنہ کو اپنے خدام سے تھا۔اپنی جماعت کے افراد سے تھا۔ان ونوں حضرت سیٹھ اسمعیل آدم صاحب غیر مبالعین میں شامل تھے حضور نے کی تو جہات کا نتیجہ تھا کہ آپ نے بیعت کر کے سلسلہ کی عظیم خدمات کی توفیق پائی۔‘“ ( الفرقان ربوہ فضل عمر نمبر دسمبر ۱۹۲۵ء و جنوری ۱۹۶۶ء) رسالہ جامعہ احمدیہ کا اجراء اور حضرت اکثر کالج اپنا ر سانہ شائع کرتے ہیں جو ان کی علمی خلیفہ المسیح الثانی کا نصیحت آمیز مضمون و ادبی سرگرمیوں کا آئینہ دار ہوتا ہے۔اسی طریق کے مطابق جامعہ احمدیہ کی طرف سے حضرت مولانا میر محمد اسحاق صاحب پروفیسر جامعہ احمدیہ کی زیر نگرانی اپریل ۱۹۳۰ء سے ایک سہ ماہی رسالہ جاری کیا گیا۔رسالہ اردو عربی مضامین پر مشتمل تھا ابتداء حصہ اردو کے مدیر مولوی چراغ دین صاحب فاضل - حصہ عربی کے مولوی محمد صادق صاحب فاضل چغتائی اور مینجر مولوی عبد الرحمان صاحب انور (بو تالوی) مقرر ہوئے۔سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے اس رسالہ کے پہلے نمبر کے لئے مندرجہ ذیل مضمون تحریر فرمایا :- " ہر ایک کالج میں آجکل رواج ہے کہ اس کے طلباء اپنے تعلقات کو کالج سے مضبوط کرنے کے لئے ایک رسالہ جاری کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ سے نہ صرف اپنے لئے ایک میدان کار نکالتے ہیں بلکہ اس کے ذریعہ سے کالج کے پرانے طلباء کا تعلق بھی کالج سے قائم رہتا ہے کیونکہ وہ اس میں مضمون لکھتے رہتے ہیں اور کالج کے حالات سے آگاہ رہتے ہیں پس اسی لحاظ سے اس رسالہ کا اجر ایقینا کالج کے لئے انشاء اللہ مفید ثابت ہو گا۔لیکن آپ لوگوں کو یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ صرف رسالہ کے اجراء سے کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک کہ محنت کرنے اور علم کو بڑھاتے رہنے کی آپ لوگ |